انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 579 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 579

انوار العلوم جلد 24 579 سال 1954ء کے اہم واقعات ہے کہ خود یورپ کے جو مختلف ملک ہیں ان کا ایک سٹینڈرڈ نہیں اگر یہ سارے ایک سٹینڈرڈ پر آسکتے تو یورپ کے سارے کے سارے ملک انگلینڈ کے سٹینڈرڈ پر کیوں نہیں آئے۔سپین کا وہ سٹینڈرڈ نہیں ہے جو انگلستان کا ہے۔اٹلی کا وہ سٹینڈرڈ نہیں ہے جو انگلستان کا ہے۔پولینڈ کا وہ سٹینڈرڈ نہیں ہے جو انگلستان کا ہے۔اور رومانیہ اور بلغاریہ اور یونان کا وہ سٹینڈرڈ نہیں جو انگلستان کا ہے تو اگر یہ ممکن ہو تا تو تمہارے گھر میں کیوں نہ ہوتا۔پھر اگر ساری قومیں ایک سٹینڈرڈ پر آسکتی ہیں تو افراد بھی آسکتے ہیں۔کیا امریکہ کے سارے آدمی ایک سٹینڈرڈ پر آئے ہوئے ہیں؟ اگر امریکہ کے سارے آدمی اعلیٰ سٹینڈرڈ پر آجائیں تو پھر ہم مان سکتے ہیں کہ اوروں کو بھی تم اعلیٰ سٹینڈرڈ پر لے جاؤ گے۔تم یہ تو کر سکتے ہو کہ امریکہ کو گرا کے کچھ نیچے لے آؤ۔فرض کرو وہ معیارِ معیشت کے لحاظ سے سو نمبر پر بیٹھے ہوئے ہیں اور ہم دو نمبر پر ہیں اور تم یہ کرو کہ امریکہ کو گراکر چالیس پر لے آؤ اور ہم کو اٹھا کر چالیس پر لے جاؤ تو یہ تو ممکن ہے لیکن یہ کہ امریکہ سوپر قائم رہے اور تم ہم کو دو سے سو پر پہنچا دو یہ ناممکن ہے۔تم مجھے بتاؤ تو سہی تم یہ کس طرح کر سکتے ہو ؟ وہ کہنے لگا میرا اپنا بھی خیال یہی ہے۔یہ اقتصادیات والے جو بات کرتے ہیں غلط ہے۔میں نے کہا تو پھر تم کیا کوششیں کرتے پھرتے ہو تمہاری اس کوشش کے صرف یہ معنے ہیں کہ تم ہمارے ملک میں آکر ہمیں خوش کرو اور کہو کہ ہم تمہیں اونچا کرنا چاہتے ہیں اور اصل میں تم بھی جانتے ہو کہ تم اونچا نہیں کر سکتے۔تم صرف اتنی مدد یہاں کر سکتے ہو کہ ہمارے کئی سامان ایسے ہیں جو ہمارے کام آسکتے تھے لیکن ہم نے وہ استعمال نہیں کئے۔مثلاً ہماری زراعت زیادہ کپاس پیدا کر سکتی ہے، ہماری فصلیں زیادہ گندم پیدا کر سکتی ہیں۔اسی طرح ہماری اور کئی چیزیں ہیں جو ہم کوشش کر کے زیادہ اچھی کر سکتے ہیں یا بعض چیزیں جو ہم باہر سے منگواتے ہیں ان کے منگوانے کی ضرورت نہیں ہم بغیر کسی زیادہ کوشش کے وہ یہیں پیدا کر سکتے ہیں۔پس تم ان میں ہم کو اونچا کر دو اور ہمارا معیار دو کی بجائے دس یا آٹھ کر دو لیکن تم وہاں تو نہیں لے جاسکتے جہاں امریکہ کے لوگ کھڑے ہیں۔اس نے کہا یہ ٹھیک ہے اور اُس کو بھی میرا نظریہ تسلیم