انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 565 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 565

انوار العلوم جلد 24 565 سال 1954ء کے اہم واقعات جہاں میونسپل کمیٹیاں ہیں وہاں یہ امر یاد رکھو کہ تمہاری مسجد کی درخواست کبھی نہیں منظور ہونے کی۔" کبھی نہیں" سے مراد یہ ہے کہ 100 میں سے 98 دفعہ تمہاری درخواست رڈ ہو جائے گی۔تم ایک وسیع کمرہ بنایا کرو اور اس کا نام لائبریری رکھو، سکول رکھو، مہمانخانہ رکھو جو مرضی ہے رکھو ہر جگہ خدا کی مسجد بن سکتی ہے اور پھر تم وہاں نماز پڑھنا شروع کر دو آہستہ آہستہ لوگ اسے خود ہی مسجد کہنا شروع کر دیں گے۔لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ احمدی اگر مہمانخانہ بھی بناتے ہیں تو وہ کہتے ہیں " ایہہ احمدیاں دی مسجد ہے"۔غرض آہستہ آہستہ وہ آپ ہی مسجد بن جاتی ہے پھر کوئی سوال ہی نہیں رہتا۔پس ہر جگہ پر مسجدیں بنانے کی کوشش کرو۔کوئی شہر ، کوئی قصبہ اور کوئی گاؤں ایسا نہ رہے جس میں تمہاری اپنی مسجد نہ ہو۔گاؤں والوں میں تو یہ بات ہے، شہر والوں میں عام طور پر یہ بات نہیں لیکن اگر تم مسجدیں بنانے لگو گے تو یاد رکھو میرا تجربہ یہ ہے کہ جہاں جہاں مسجد بنتی ہے وہاں فوراً احمدی بڑھنے شروع ہو جاتے ہیں۔مثلاً جس وقت کراچی والا ہال بنا لوگ کہتے تھے یہ ہال تو بن گیا ہے اس میں نمازیں پڑھنے والے کہاں سے آئیں گے ؟ میں نے کہا تم بناؤ پھر دیکھو لوگ کس طرح آتے ہیں۔چنانچہ ابھی وہ پورا تیار بھی نہیں ہوا تھا کہ پارٹیشن ہو گئی اور دتی کی ساری جماعت وہاں آپڑی۔اب اس ہال میں وہاں کے سارے احمدی سما ہی نہیں سکتے۔چنانچہ اب وہ اور جگہ پر انتظام کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس سے زیادہ کھلی جگہ ملے تاکہ ہم سب سا سکیں۔اور اگر وہ جگہ بھی خدا نے چاہا انہوں نے بنالی تو پھر دیکھیں گے کہ پھر خدا جماعت کے بڑھنے کا کوئی ذریعہ بنادے گا اور پھر وہ تنگ ہو جائے گی۔ہمارے متعلق تو خدائی قانون ہے کہ دسّخ مكانك اپنے مکانوں کو بڑھاتے جاؤ بڑھاتے جاؤ۔دیکھو اللہ تعالیٰ نے ہم پر کتنی حسن ظنی کی ہے فرماتا ہے وسّغ مكانك ـ اب تم سمجھ سکتے ہو کہ خدا کو میرے اور تمہارے مکان سے کیا واسطہ ہے۔دنیا میں سارے مکان بنتے ہیں، پاخانے ہوتے ہیں، غسلخانے ہوتے ہیں، باورچی خانے ہوتے ہیں اور ہمیشہ بنتے ہیں۔اس کو میرے اور تمہارے مکان سے کیا د چھپی ہے۔در حقیقت اس الہام میں اُس نے تم پر حسن ظنی کی ہے اور وسغ مكانك کے