انوارالعلوم (جلد 24) — Page 557
انوار العلوم جلد 24 557 سال 1954ء کے اہم واقعات رکھنا صرف بہادر کا کام ہے اور میرے مقابل میں کوئی موچھیں نہیں رکھ سکتا۔وہ کہنے لگا جاؤ جاؤ بہادر بنے پھرتے ہو تم سمجھتے ہو تم ہی بڑے بہادر ہو میں تم سے بھی زیادہ بہادر ہوں۔اس نے کہا پھر یہ تو تلوار کے ساتھ فیصلہ ہو گا۔وہ کہنے لگا اور کس کے ساتھ ہو گا بہادروں کا فیصلہ ہوتاہی تلوار کے ساتھ ہے۔اس نے کہا پھر نکالو تلوار۔چنانچہ اس نے بھی تلوار نکال لی اور اس نے بھی تلوار نکال لی حالانکہ اس بے چارے کو تلوار چلانی ہی نہیں آتی تھی۔جب وہ تلوار نکال کر کھڑا ہو گیا تو یہ کہنے لگا دیکھو بھٹی خان صاحب! ایک بات ہے اور وہ یہ کہ میرا اور آپ کا فیصلہ ہونا ہے کہ ہم میں سے کون بہادر ہے لیکن ہمارے بیوی بچوں کا تو کوئی قصور نہیں۔فرض کرو میں مارا جاؤں تو میری بیوی کا کیا قصور ہے کہ بیچاری بیوہ بنے اور میرے بچے یتیم بنیں اور تم مارے جاؤ تو تمہاری بیوی اور بچوں کا کیا قصور ہے خواہ مخواہ ظلم بن جاتا ہے۔اس نے کہا پھر کیا علاج ہے؟ کہنے لگا علاج یہی ہے کہ میں جا کے اپنے بیوی بچوں کو مار آتا ہوں اور تم جاکے اپنے بیوی بچوں کو مار آؤ۔پھر ہم آپس میں آکر لڑیں گے پھر تو ٹھیک ہوئی بات۔اب خواہ مخواہ اپنی اس لڑائی کے ساتھ دوسروں کو کیوں تکلیف دینی ہے۔یہ بات بیچارے خان صاحب کی سمجھ میں آگئی انہوں نے کہا ٹھیک ہے چنانچہ وہ گئے اور اپنے بیوی بچوں کو مار کر آگئے۔اور یہ وہیں بیٹھا رہا جس وقت وہ واپس پہنچا کہنے لگا نکالو تلوار۔اس نے کہا نہیں میری رائے بدل گئی ہے اور یہ کہہ کر اُس نے اپنی مونچھیں نیچی کر لیں۔تو کیا اب تم وہی کرنا چاہتے ہو! تم تھوڑے سے تھے جب تم دنیا میں نکلے اور تم نے نکل کر دنیا سے یہ منوالیا کہ اگر اسلام کی عزت رکھنے والی کوئی قوم ہے تو صرف احمدی ہیں، تم نے دنیا سے منوالیا کہ اگر عیسائیت کا جھنڈ از یر کرنے والی کوئی چیز ہے تو وہی دلیلیں ہیں جو مرزا صاحب نے پیش کی ہیں۔جب عیسائیت کا نپنے لگی، جب وہ تھر تھرانے لگی، جب اس نے سمجھا کہ میرا مذ ہی تخت مجھ سے چھینا جا رہا ہے اور یہ تخت چھین کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا جا رہا ہے تو تم نے کہا ہم اپنی موچھیں نیچی کرتے ہیں۔کیسی افسوس کی بات ہے۔یہی تو وقت ہے تمہارے لئے قربانیوں کا ، یہی تو وقت ہے تمہارے لئے آگے بڑھنے کا۔اب جبکہ میدان تمہارے ہاتھ میں آرہا ہے تم