انوارالعلوم (جلد 24) — Page 558
انوار العلوم جلد 24 558 سال 1954ء کے اہم واقعات میں سے کئی ہیں جو پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں۔لیکن یاد رکھو اس قسم کی عزت کا موقع اور اس قسم کی برکت کا موقع اور اس قسم کی رحمت کا موقع اور اس قسم کے خدا تعالیٰ کے قرب کے موقعے ہمیشہ نہیں ملا کرتے۔سینکڑوں سال میں کبھی یہ موقعے آتے ہیں اور خوش قسمت ہوتی ہیں وہ قومیں جن کو یہ موقعے مل جائیں اور وہ اس میں برکتیں حاصل کر لیں۔نوجوانوں کو میں خصوصاً توجہ دلاتا ہوں کہ خدام کے ذریعہ سے تم نے بڑے بڑے اچھے کام کرنے شروع کئے ہیں۔خدمت خلق کا تم نے ایسا عمدہ لاہور میں مظاہرہ کیا ہے کہ اس کے اوپر غیر بھی عش عش کرتا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ تم روزانہ اپنی زندگیوں کو اس طرح سنوارتے چلے جاؤ گے کہ تمہارا خدمت خلق کا کام بڑھتا چلا جائے لیکن یہ کام سب سے مقدم ہے کیونکہ اسلام کی خدمت کے لئے تم کھڑے ہوئے ہو اور اسلام کی تبلیغ کا دنیا میں پھیلانا یہ ناممکن کام اگر تم کر دو گے تو دیکھو کہ آئندہ آنے والی نسلیں تمہاری اس خدمت کو دیکھ کر کس طرح تم پر اپنی جانیں نچھاور کریں گی۔کیا آج تم میں سے کوئی شخص خیال کر سکتا ہے ، کیا آج ایشیا میں سے کوئی شخص خیال کر سکتا ہے، کیا آج افریقہ کا کوئی شخص خیال کر سکتا ہے، کیا آج امریکہ کا کوئی شخص خیال کر سکتا ہے، کیا آج چین اور جاپان کا کوئی شخص خیال کر سکتا ہے یا شمالی علاقوں کا کوئی شخص خیال کر سکتا ہے کہ اسلام غالب آجائے گا اور عیسائیت شکست کھا جائے گی ؟ کیا کوئی شخص یہ خیال کر سکتا ہے کہ ربوہ جو ایک کوردہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا، ایک شور زمین والا جس میں اچھی طرح فصل بھی نہیں ہوتی، جس میں پانی بھی کوئی نہیں اس ربوہ میں سے وہ لوگ نکلیں گے جو واشنگٹن اور نیو یارک اور لنڈن اور پیرس کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے؟ تو یہ تمہاری حیثیت ہے کہ کوئی شخص نہ دشمن نہ دوست یہ قیاس بھی نہیں کر سکتا کہ تم دنیا میں یہ کام کر سکتے ہو۔مگر تمہارے اندر خدا تعالیٰ نے یہ قابلیت پیدا کر دی ہے، تمہارے لئے خدا تعالیٰ نے یہ وعدے کر دیئے ہیں بشر طیکہ تم استقلال کے ساتھ اور ہمت کے ساتھ اسلام کی خدمت کے لئے تیار رہو۔اگر تم اپنے وعدوں پر پورے رہو، اگر تم اپنی بیعت پر قائم رہو تو خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم