انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 526

انوار العلوم جلد 24 526 سال 1954ء کے اہم واقعات عورت کا باہر برقعہ میں نکلنا بھی عیب سمجھا جاتا تھا کجا یہ کہ وہ اپنے خاوند کے ساتھ ٹہل رہی ہو چنانچہ وہ گھبرائے ہوئے حضرت خلیفہ اول کے پاس گئے مجھے حضرت خلیفہ اول نے یہ واقعہ خود سنایا تھا کہنے لگے مولوی عبد الکریم صاحب میرے پاس آئے اور آئے کہا کہ کتنا ظلم ہو گیا ہے اب کل دیکھئے سارے اخباروں میں شور پڑا ہوا ہو گا۔میں نے کہا کیا ظلم ہو گیا ہے۔کہنے لگے دیکھئے مرزا صاحب کو تو پتہ ہی نہیں وہ تو اپنے خیال میں محو رہتے ہیں کوئی مسئلہ ہی سوچ رہے ہوں گے یا کسی اور طرف متوجہ ہوں گے اور دیکھئے ساتھ ساتھ بیوی صاحبہ کو لے کر ٹہل رہے ہیں اب کیا ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پھر آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں۔کہنے لگے آپ جائے اور جا کر ان کو سمجھائیے کہ حضور کیا کر رہے ہیں کل کو تمام دنیا میں شور پڑ جائے گا۔کہنے لگے میں نے کہا مولوی صاحب میں تو کہتا نہیں اور نہ مجھ میں جرات ہے اور اگر کہہ لیں گے تو آگے کون سی لوگوں نے ہماری عزت باقی رکھی ہوئی ہے اور پھر اس میں حرج کیا ہے۔اس پر وہ بڑے جوش میں آگئے اور کہنے لگے آپ کو یہ خیال ہی نہیں ہے کہ کس طرح جماعت کی بدنامی ہو گی اور پھر آپ غصہ سے گئے اور جا کر حضرت صاحب سے کچھ کہا۔آپ فرماتے تھے جب مولوی صاحب لوٹے تو میں نے شکل دیکھ کر سمجھا کہ کوئی اچھی بڑی جھاڑ پڑی ہے۔سر جھکایا ہوا تھا اور خاموش چلے آرہے تھے۔میں نے آگے بڑھ کر کہا کہ مولوی صاحب کہہ آئے کہنے لگے "ہاں کہہ آئے" میں نے کہا کہ پھر مرزا صاحب نے کیا جواب دیا ( آپ فرماتے تھے میں دیکھ رہا تھا کہ جب انہوں نے بات کی تو حضرت صاحب کھڑے ہو گئے حضرت صاحب کی عادت تھی کہ جس وقت کوئی بات قابلِ اعترض یا قابل تشریح ہوتی تھی تو کھڑے کھڑے زمین پر اپنی سوٹی رکھ کر رگڑتے تھے۔میں نے آپ کو سوٹی رگڑتے ہوئے دیکھا تھا جس سے میں سمجھ گیا کہ حضرت صاحب نے جوش میں کوئی بات کی ہے۔بہر حال جب میں نے پوچھا کہ کیا ہوا) کہنے لگے جب میں نے کہا تو مر زا صاحب نے میری طرف مڑ کے دیکھا اور کہا مولوی صاحب مخالف کیا لکھیں گے کیا یہ کہ مرزا صاحب اپنی بیوی کو جب کہ وہ برقعہ میں تھی لے کر ٹہل رہے تھے۔بس یہ کہہ کر آگے چل دیئے۔آپ نے