انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 525

انوار العلوم جلد 24 525 سال 1954ء کے اہم واقعات کی اطاعت عیسائیت نے نہیں کرنی، پوپ نے نہیں کرنی، آرچ بشپ آف کنٹر بری نے نہیں کرنی، مسلمان نے کرنی ہے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ تم ایک دن میں اس میں تغیر پیدا کر لو لیکن ہم یہ ضرور چاہتے ہیں کہ تم نئی رسمیں نہ جاری کرو۔جو پہلے بھی پر دہ نہیں کرتی تھیں۔ان کو ہم آہستہ آہستہ ادھر لائیں گے مگر جو پردہ کرتی تھیں وجہ کیا ہے کہ وہ ایک دن میں پردہ سے باہر نکل آتی ہیں۔ابھی دو مہینے کی بات ہوتی ہے کہ وہ عورت بڑا پردہ کرتی ہے اس کی صحت بھی ٹھیک ہوتی ہے، اس کا سانس بھی کبھی نہیں رکا، دم بھی نہیں گھٹا وہ دمہ کا دورہ بھی نہیں ہوا مگر دو مہینے کے بعد وہ وہی باتیں طوطے کی طرح دو ہر انا شروع کر دیتی ہے کہ اس سے صحت خراب ہوتی ہے اس میں یہ ہوتا ہے اس میں وہ ہوتا ہے۔تیری ماں کی صحت خراب نہیں ہوئی، تیری بہن کی نہیں ہوئی تیری خالہ کی نہیں ہوئی، تیری پھوپھی کی نہیں ہوئی اب تک تیری نہیں ہوئی تھی آج یکدم کیوں خراب ہونے لگی ہے صرف اس لئے کہ اب تجھے ایسا آزاد خاوند مل گیا ہے جو چاہتا ہے کہ تو بھی آزاد پھرے۔پس جو پہلے سے بے پر وہ پھر تی ہیں ان کو تو بے شک روکنے میں وقت چاہیے اور حکمت اور سہولت اور نرمی کے ساتھ ہر ایک کام ہونا چاہئے مگر جو اسلام اور قرآن کو مانتے ہوئے پر دہ چھوڑتی ہیں ان سے ہم پہلا مطالبہ یہ کرتے ہیں کہ قرآن شریف کی عزت رکھنا تمہارے اختیار میں ہے تمہیں پر دہ میں جو دقتیں اور مشکلات نظر آتی ہیں یا اسلامی اصول کے خلاف باتیں دکھائی دیتی ہیں ان کے متعلق گفتگو کرو بخشیں کرو اور ایک نتیجہ پر پہنچ کر جو شد تیں لوگوں نے پیدا کر لی ہیں ان کو دور کرو یہ بے شک تمہارا حق ہے اور تمہیں ان سے کوئی روک نہیں سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام ایک دفعہ امرتسر یا لاہور کے اسٹیشن پر پھر رہے تھے اور حضرت اماں جان کو ساتھ لیا ہو ا تھا۔مولوی عبد الکریم صاحب احمدیت سے پہلے وہابی تھے پھر نیچری خیال کے ہوئے سرسید کے بہت معتقد ہو گئے تھے اور پھر احمدی تو ہوئے مگر ان کی طبیعت پر پرانے خیالات کا اثر زیادہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کو وہاں ٹہلتے ہوئے دیکھ کر انہیں خیال آیا کہ اب خبر نہیں کیا ہو جائے گا لوگ اعتراض کریں گے۔اس زمانہ میں تو