انوارالعلوم (جلد 24) — Page 524
انوار العلوم جلد 24 524 سال 1954ء کے اہم واقعات شروع ہو جائیں۔جیسے ہمارا ز میندار ہوتا ہے اس کی بیوی جب تک کھیت میں جا کر کام نہیں کرتی اس کی زمینداری چلتی نہیں ہم اس کو کبھی نہیں کہتے کہ تو شہری عورتوں والا پردہ کر یا دوسری پڑھی لکھی عورتوں یا گھر کی کھاتی پیتی عور توں والا پر دہ کر۔اسی طرح اگر وہ بھی اپنی ضرورتوں کے مطابق کرتی ہیں تو کر لیں لیکن ہم ان کو یہ سمجھاتے بھی رہتے ہیں کہ دیکھو اس اس حد تک تم پردہ کرنا شروع کرو لیکن یہ بھی یاد رکھو کہ پردہ اس سے زیادہ ہے مثلاً یورپ اور امریکہ میں ہم یہ کہتے ہیں کہ مسلمان عورت اپنا گلا ڈھانک لیا کرے اس طرح اپنا سر ڈھانک لیا کرے لیکن ساتھ ہی ہم انہیں یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ پر وہ اس سے زیادہ ہے لیکن تمہارے حالات میں سر دست اس سے زیادہ ہم نہیں چاہتے کہ جب آہستہ آہستہ تمہاری تعداد میں زیادتی ہوتی جائے گی اور عمرانی دباؤ تمہارے حق میں پیدا ہو نا شروع ہو جائے گا تو اس وقت ہم تم سے یہ خواہش کریں گے کہ اپنے پر دے کو بڑھاؤ اور آہستہ آہستہ اس پر دے تک پہنچ جاؤ جس کا اسلام تم سے تقاضا کرتا ہے۔اس پر دے میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بد انتظامی ہو تو اور بات ہے۔ہم نے عورتوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیمیں قادیان میں بھی دلوادی تھیں اور یہاں بھی دلوادی ہیں خود میری ایک بیوی ایم۔اے ہے ، دوسری بی۔اے کی تیاری کر رہی ہے ایک میری لڑکی سیکنڈ ایئر میں پڑھ رہی ہے عورتیں سکول اور کالج میں پڑھاتی ہیں اور اگر مر د پڑھانے کے لئے آتے ہیں تو پس پردہ بیٹھ کر پڑھا دیتے ہیں۔مجھ سے کئی لوگوں نے جب بات کی اور ان کو بتایا گیا کہ ہمارے ہاں اس حد تک کی تعلیم ہے تو وہ حیران ہو جاتے ہیں۔زیادہ تر اعتراض ان کا یہی ہوتا ہے کہ پردہ کرنے سے عورتوں کی صحتیں خراب ہو جاتی ہیں اور ان کی تعلیم اچھی نہیں ہوتی۔جب ہم بتاتے ہیں کہ ہمارے ہاں عورتوں کی تعلیم بھی ہو رہی ہے اور صحتیں بھی ان کی خراب نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھی ہیں تو ان کے لئے یہ بات بڑی حیرت کا موجب ہوتی ہے بہر حال پر دہ ایک اسلامی حکم ہے اور اس کو تم نے پورا کرنا ہے۔یہ تو ہو نہیں سکتا کہ امریکہ اور انگلستان اور جرمنی اور فرانس والے لوگ خدا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں کو پورا کریں گے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم