انوارالعلوم (جلد 24) — Page 519
انوار العلوم جلد 24 519 سال 1954ء کے اہم واقعات بجائے فائدہ کے نقصان کا موجب ہو جاتا ہے۔اسی طرح کئی انتظام اس قسم کے ہیں جن کے متعلق میں دیکھتا ہوں کہ ہر سال نئے سرے سے سوچے جاتے ہیں۔چنانچہ وہ ہر سال ہی بدلتے ہیں۔مثلاً پولیس آتی ہے گورنمنٹ نے ان کا فرض مقرر کیا ہوا ہے کہ جو کچھ یہ کہتے ہیں وہ لکھ کے لاؤ۔اب تمہیں تو اس پر خوش ہونا چاہئے بے شک جو شخص سیڈیشن (SEDITION) کی باتیں کرتا ہے، فساد کی باتیں کرتا ہے وہ تو ڈرے گا کہ یہ میری رپورٹ لکھیں گے اور اوپر پہنچے گی تو خبر نہیں کیا ہو گا۔ان کو کسی طرح دق کر کے نکالو مگر تمہاری تو یہ کیفیت ہے کہ "بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا تمہیں کہتے ہیں تبلیغ نہ کرو اور آپ ہماری تبلیغ لے کر دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔رپورٹ پہلے سپر نٹنڈنٹ پولیس پڑھتا ہے پھر ڈپٹی کمشنر پڑھتا ہے پھر کمشنر پڑھتا ہے پھر چیف سیکرٹری پڑھتا ہے پھر گورنر صاحب پڑھتے ہیں وزیر پڑھتے ہیں۔غرض ادھر کہتے ہیں تبلیغ نہ کرو اور اُدھر خود سامان کرتے ہیں کہ ہمیں تبلیغ کرو۔اس سے زیادہ تمہارے لئے اور کونسا اچھا موقع ہو سکتا ہے۔پس ہمیشہ ان کے لئے اچھی جگہ بنانی چاہئے اور انہیں ایسا موقع دینا چاہئے کہ وہ تمہارا ایک ایک لفظ لکھیں تا کہ اوپر کے سارے افسر وہ ایک ایک لفظ پڑھیں جو تم نے تبلیغ کے سلسلہ میں کہے ہیں۔بہر حال اگر تور پورٹر جھوٹ بولنے والا ہے تو لکھنے سے جھوٹ کم ہو جاتا ہے کیونکہ اگر تم اس کو اچھی طرح لکھنے کا موقع نہیں دو گے تو وہ جا کے ساری تقریر اپنے پاس سے بنائے گا اور اس میں بہت زیادہ اس کے لئے جھوٹ کا موقع ہو گا۔اور اگر وہ لکھے گا تو لکھنے کی وجہ سے اس کا جھوٹ کم ہو جائے گا اور اگر وہ شریف آدمی ہے تو پھر جو کچھ وہ لکھے گاوہ تمہاری اعلیٰ درجہ کی تبلیغ ہو گی۔گویا لوگ تو تمہیں تبلیغ سے روکتے ہیں اور خدا تمہارے لئے دروازہ کھولتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے اس ذریعہ سے تمہاری تبلیغ کا ایک راستہ کھول دیا ہے۔وہ آپ آتے ہیں اور لکھتے ہیں اور اوپر کے افسران تقریروں کو پڑھتے ہیں۔اگر تم مثلاً یہاں کے جلسہ کی تقریروں کا ایک رسالہ لکھو اور ڈپٹی کمشنر کو جاکے کہو کہ پڑھ۔تو شرم سے وہ لے تولے گا۔کہے گا شکریہ ، بہت اچھا۔لیکن گھر میں جا کر پھینک دے گا اور کہے گا مجھے کہاں