انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 518 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 518

انوار العلوم جلد 24 518 سال 1954ء کے اہم واقعات جلسہ کے انتظام کے متعلق بھی میں دوستوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس دفعہ جلسہ کا انتظام بدلا گیا اور پھر مجھے کارکنوں نے بتایا کہ کسیر کم ہو گئی ہے۔میرے نزدیک کھانے سے بھی زیادہ مکان اور کسیر کی اہمیت ہوتی ہے۔لوگ گھر سے آئے تو چار پائیاں چھوڑ کر آئے۔تو کم سے کم ان کے لئے زمین پر تو ایسی جگہ ہونی چاہئے کہ ان کی صحت ٹھیک رہ سکے اور لیٹ کے انہیں نیند آجائے۔قیدیوں کے متعلق جو کتابیں میں نے پڑھی ہیں اُن سے پتہ لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں قیدی کو کوئی خاص چٹائی وغیرہ ایسی نہیں ملتی جس پر وہ آرام کر سکے۔بس دو کمبل دے دیتے ہیں کہ ایک کو نیچے بچھا لو اور ایک کو اوپر اوڑھ لو۔اس سے زیادہ اس کے آرام کا خیال نہیں رکھا جاتا۔مگر ہم تو اسکے بھی خلاف ہیں اور حکومت سے یہی چاہتے ہیں کہ قیدیوں کو بھی اس سے اچھی جگہ دو کیونکہ بہر حال وہ انسان ہیں، انہوں نے زندگی بسر کرنی ہے، انہیں تم نے اپنے سارے رشتہ داروں سے محروم کر دیا۔اس سے زیادہ اور کیا سزا ہو گی۔تو کسیر کا وقت پر مہیا کرنا اور اتنی کثرت سے مہیا کرنا کہ لوگ اس سے آرام حاصل کر سکیں اور زمین کی سختی اور ٹھنڈک ان کو نقصان نہ پہنچائے یہ نہایت ضروری اور لازمی امر ہے۔اسی طرح مکانوں کے متعلق بھی اس دفعہ بہت شکایت ہوئی کہ مکانوں میں دقت ہے۔خصوصاً عورتوں میں تو بہت ہی دقت ہوئی۔ان کے لئے کچھ خیمے لگائے گئے ہیں لیکن وہ خیمے بھی ان کی تعداد سے جو بڑھ گئی ہے کم ہیں۔پس آئندہ ان امور کا وقت پر انتظام کیا جایا کرے اور اس کے متعلق اصولی طور پر تصفیہ کر کے انجمن کے پاس رپورٹ کی جائے۔مجھ سے بھی مشورہ لے لیا جایا کرے تاکہ آئندہ اس قسم کی دقتیں پیش نہ آئیں۔اسی طرح لاؤڈ سپیکر کے متعلق شکایت ہوئی ہے۔کل عورتوں نے کہا کہ سارا دن ہمیں تقریریں ہی نہیں ملیں۔انہوں نے کہا ہے بولنے والا بولتا تھا لیکن ہمارے پاس تو اس کی آواز اس طرح آتی تھی کہ ہم سمجھتے تھے آدمی نہیں جانور بول رہا ہے۔حالانکہ لاؤڈ سپیکر کی غرض یہ ہے کہ بغیر اس کے کہ بولنے والے کے گلے پر بوجھ پڑے تمام حاضرین تک آواز پہنچ جائے۔اگر یہ غرض پوری نہ ہو تو پھر لاؤڈ سپیکر اکثر اوقات