انوارالعلوم (جلد 24) — Page 511
انوار العلوم جلد 24 511 سال 1954ء کے اہم واقعات لیکن سردیوں کے موسم میں یہ قریباً ساری کی ساری تفسیر لکھی گئی۔ساری تو نہیں یہ سمجھو کہ آدھی کیونکہ آدھی میرے درس قرآن کی وجہ سے پہلے لکھی ہوئی تھی صرف اس کی درستی کا کام تھا۔بہر حال کم سے کم پانچ سو صفحہ ایسا تھا یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ پچیس سو کالم ایسا تھا جو تین مہینے میں رات کو بیٹھ کر میں نے لکھا۔کئی دفعہ ایسا ہو جاتا تھا کہ میں صرف کمر سیدھی کرنے کے لئے تھوڑی دیر کے لئے لیٹ جاتا تھاور نہ گھڑی بتاتی تھی کہ اب صبح کی اذان ہونے والی ہے۔ایک بجے دو بجے تک بیٹھنا تو قریباً قاعدہ ہی بنا ہوا تھا اور پھر اس جوش میں یہ بھی احساس نہیں ہو تا تھا کہ کپڑے اوپر ہیں یا نہیں۔ایک کرتے میں دالان میں جا کے بیٹھ رہنا اور لکھتے رہنا، بیوی نے دوسرے کمرے میں سوئے رہنا ایک معمول سا ہو گیا تھا۔تو رات کو کام کرنے کا میں پر انا عادی ہوں۔لیکن اس دفعہ میں نے دیکھا کہ بعض دفعہ تو آٹھ نو بجے ہی مجھے یوں معلوم ہوتا تھا کہ اب میں بالکل ایک منٹ بھی نہیں جاگ سکتا اور مجبوراً سونا پڑتا تھا۔تو ان سردیوں میں میں رات کو بالکل کام نہیں کر سکا سوائے اس کے کہ عشاء تک کوئی کام کر لوں تو کر لوں۔بلکہ گھر سے مجھ پر اعتراض ہونے شروع ہو گئے تھے کہ آپ تو اتنی جلدی کھانا کھانے لگ گئے ہیں کہ ارد گرد والے لوگ ہنستے ہیں کہ ہم تو نہیں کھاتے اور آپ شام کے وقت ہی کہتے ہیں کہ کھانا لاؤ۔میں نے کہا میں اس لئے کہتا ہوں کہ آٹھ نو سے زیادہ میں جاگ ہی نہیں سکتا اور کھانے اور سونے میں کچھ فاصلہ ہونا چاہئے اس لئے میں پہلے کھا لیتا ہوں۔تو یہ سال اس لحاظ سے میرے لئے نہایت ہی تکلیف دہ گزرا اور شاید یہی موجب میری بیماری کا ہوا ہو اور اس وجہ سے لازماً میرے لئے ضروری تھا کہ مجھے زیادہ تر آرام دیا جائے۔مثلاً گر دنہ اُڑے، غبار نہ ہو کیونکہ یہ چیزیں گلے میں جاکر سوزش پیدا کرتی ہیں اور تکلیف ہو جاتی ہے لیکن یہ چیز میسر نہیں آسکی اور ملاقاتوں کے وقت میں گردو غبار بھی اُڑتا رہا۔گو مرد اب پہلے سے بہت زیادہ احتیاط کرتے ہیں۔پہلے تو بڑی گر د ہوا کرتی تھی لیکن اب میں نے دیکھا ہے کہ چند سالوں سے نصیحت کی وجہ سے بہت احتیاط ہوتی ہے لیکن پھر بھی غفلت ہو جاتی ہے۔مستورات کی ملاقات میں بھی ایسا ہی ہو تا ہے۔ان کی تعلیم چونکہ کم ہوتی ہے