انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 477

انوار العلوم جلد 24 دو 477 تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطار کہ گانے والا گاڈ سیودی کنگ“ کہہ رہا ہے میں تو اتنا سمجھتا ہوں کہ یہ ایک سُر ہے۔آگے یہ مر جس لفظ سے بھی مل جائے مل جائے آپ نے چونکہ اس سر کو ”گاڈ سیو دی کنگ“ کے لئے بنایا ہے۔اسلئے آپ سمجھتے ہیں کہ گانے والا یہی گا رہا ہے۔وہ کہنے لگے۔آپ نہیں سمجھتے میں آپ کو سمجھاتا ہوں چنانچہ انہوں نے علم موسیقی کے متعلق آدھ گھنٹہ یا پون گھنٹہ گفتگو کی اور مجھے اس کے متعلق بعض باتیں سمجھانے کی کوشش کی اور پھر فخریہ طور پر کہا اب تو آپ سمجھ گئے ہوں گے۔میں نے کہا میں نے علم موسیقی کے متعلق پہلے جو کچھ سمجھا تھا۔اب معلوم ہوا ہے کہ وہ بھی غلط ہے لیکن اب آپ نے جو کچھ بتایا ہے وہ بھی میں نہیں سمجھا کچھ عرصہ کے بعد میں لاہور گیا وہاں ایک معزز غیر احمدی دوست مجھے ملنے آئے مجلس میں موسیقی کا ذکر ہو رہا تھا۔وہاں میں نے یہ لطیفہ سنایا۔انہیں پینٹنگ (PAINTING) کا شوق تھا میں نے کہا آپ بتائیں یہ کیا علم ہے اگر ہم کوئی پہاڑی بنالیں یا کوئی گدھا یا گھوڑا بنا لیں تو یہ تصویر ہمیں اچھی لگے گی لیکن مجھے اس بات کی کبھی سمجھ نہیں آئی کہ ایک غیر انسانی چیز ہے اور اس کے سامنے ہزاروں تاریں ہیں۔گویا وہ اس کی ٹانگیں ہیں۔اب کیا دنیا میں کوئی اس قسم کی مخلوق ہے۔جس کی ہزاروں ٹانگیں ہوں۔انہوں نے کہا آپ نے پینٹنگ کو نہیں سمجھا یہ بھی ایک علم ہے۔میں آپ کو سمجھاتا ہوں۔میں نے کہا پہلے میری بات سن لیں اس کے بعد آپ جو چاہیں کہیں میں تو سمجھتا ہوں کہ جو جذبات انسانی فوٹو میں نہیں لائے جاسکتے ایک پینٹر اپنی تصویر میں انہیں بآسانی لا سکتا ہے پینٹنگ کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ چاہے کوئی شخص ہنس رہا ہو وہ اسے تصویر میں روتا ہوا دکھا سکتا ہے یا چاہے کوئی کتنا شریف ہو وہ اسے تصویر میں بد معاش اور غنڈا دکھا سکتا ہے اس لئے اسلام نے ان تصویروں کی ممانعت کی ہے کیونکہ ان کے ذریعہ اچھے سے اچھے آدمی کو بُرا دکھایا جاسکتا ہے فوٹو میں یہ بات نہیں اگر کوئی آدمی ہنس رہا ہو تو فوٹو اسے ہنستا ہوا ہی دکھائے گا۔اب یہ کہ اس میں کوئی فلسفہ ہوتا ہے یا بعض بار یک باتیں ہوتی ہیں جو ایک عام آدمی نہیں سمجھ سکتا۔یہ غلط ہے۔انہوں نے کہا بات آپ کی سمجھ میں نہیں آئی۔میں آپ کو سمجھاتا ہوں۔چنانچہ وہ سمجھاتے رہے اور آخر میں میں نے انہیں وہی جواب دیا