انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 454

انوار العلوم جلد 24 454 خدام الاحمدیہ کے قیام کا مقصد۔کوئی کمزور عورت اُس گلی میں سے دوائی لے کر گزرتی ہے اور فرض کرو اس کا بچہ بستر مرگ پر پڑا ہوا ہے تو خواہ اُسے راستہ میں ڈا کو ملیں، فسادی نظر آئیں وہ نظر بچاتی اور دیواروں کے ساتھ ساتھ چمٹتی ہوئی وہاں سے گزر جائے گی کیونکہ وہ جانتی ہے کہ میرا یہاں سے گزرناضروری ہے اور دوسرا سمجھتا ہے کہ میرا یہاں سے گزرناضروری نہیں۔گزشتہ ایام میں جو فسادات ہوئے اُن کے متعلق جہاں تک گورنمنٹ کا نکتہ نگاہ ہے وہ محسوس کرتے تھے کہ انتہا درجہ کے فسادات جو کسی ملک میں رونما ہو سکتے ہیں وہ یہاں پیدا ہو گئے تھے لیکن اس کے باوجو د لاکھوں کی جماعت میں سے صرف پندرہ سولہ آدمی تھے جنہوں نے کمزوری دکھائی۔اور جب انکوائری کمیٹی بیٹھی تو آئی جی یا چیف سیکرٹری کا بیان تھا کہ ہمارے علم میں صرف ایک شخص ایسا ہے جو ابھی تک واپس نہیں ہوا باقی سب جماعت احمدیہ میں شامل ہو چکے ہیں اور اصل حقیقت تو یہ ہے کہ اب سارے ہی واپس آچکے ہیں سوائے ایک دو کے جو پہلے ہی احمدیت سے منحرف تھے اور خواہ مخواہ ان کو اس لسٹ میں شامل کر لیا گیا تھا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ جانتے تھے کہ ہم صحیح مقصد کے لئے کام کر رہے ہیں صرف ان کے دل کی کمزوری یا بز دلی تھی کہ جس کی وجہ سے عارضی طور پر اُن کا قدم لڑکھڑا گیا۔بلکہ گوجر انوالہ میں تو ایک لطیفہ ہو گیا۔ایک احمدی جو کمزور دل تھا اُس پر مخالفین نے دباؤ ڈالا تو اس نے کہہ دیا کہ میں مرزائیت سے توبہ کرتا ہوں۔وہ بڈھا آدمی تھا اُس نے سمجھا کہ دل میں تو مانتا ہی ہوں اگر منہ سے میں نے کچھ کہہ دیا تو کیا ہوا؟ بہر حال لوگ اس خوشی میں لوٹ گئے اور انہوں نے نعرے مارنا شروع کر دیئے ہم نے فلاں مرزائی سے توبہ کر والی ہے۔مسجد کے امام کو بھی اس کی خبر ہوئی وہ ہوشیار آدمی تھا اُس نے پوچھا تمہیں کس طرح پتہ لگا ہے کہ اُس نے مرزائیت سے توبہ کر لی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے اُس نے کہا ہے کہ میں مرزائیت سے توبہ کرتا ہوں۔وہ کہنے لگا اُس نے تمہیں دھوکا دیا ہے اب وہ گھر میں بیٹھا استغفار کر رہا ہو گا۔تم پھر اُس کے پاس جاؤ اور اُس سے کہو ہم تمہاری توبہ ماننے کے لئے تیار نہیں جب تک تم یہاں آکر ہمارے پیچھے نماز نہ پڑھو۔چنانچہ پھر ہجوم اُس کے گھر پہنچا