انوارالعلوم (جلد 24) — Page 453
انوار العلوم جلد 24 453 خدام الاحمدیہ کے قیام کا مقصد۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّىٰ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ خدام الاحمدیہ کے قیام کا مقصد نوجوانوں میں اسلام کی روح کو زندہ رکھنا ہے (فرموده 2 دسمبر 1954ء بر موقع عصرانه به اعزاز صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ) ا تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:- انگریزی کی ایک مثل ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ قافلہ چلتا چلا جاتا ہے اور کتے بھونکتے جاتے ہیں۔الفاظ اس مثل کے سخت ہیں لیکن مطلب صرف یہ ہے اور اسی مطلب کی طرف میرا اشارہ ہے کہ جب کسی خاص مقصد کو لے کر انسان کھڑا ہو تا ہے تو ہمیشہ ہی اچھے مقصد کی مخالفت کی جاتی ہے لیکن جن لوگوں نے اپنا کوئی مقصد قرار دیا ہوتا ہے وہ اُس مخالفت کی پرواہ نہیں کرتے اور اپنے کام میں لگے رہتے ہیں۔اور جب تک وہ اپنے کام میں لگے رہتے ہیں دنیا اپنے منہ سے اقرار کرے یا نہ کرے دل میں یہ اقرار کرنے پر ضرور مجبور ہوتی ہے کہ ان لوگوں کے سامنے کوئی مقصد ہے کیونکہ بغیر مقصد کے کوئی شخص مخالفتوں کا مقابلہ نہیں کیا کرتا۔جب بے مقصد لوگوں کی مخالفت ہو تو وہ فوراً کام چھوڑ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمیں نقصان اٹھانے کی کیا ضرورت ہے۔مثلاً اگر کوئی شخص ایک گلی میں سے گزر رہا ہو اور سوائے گزر جانے کے اس کی اور کوئی غرض نہ ہو اور راستہ میں اُسے ڈاکو مل جاتے ہیں یا وہ دیکھتا ہے کہ لوگ آپس میں لڑ رہے ہیں تو بے مقصد انسان فوراً اُس گلی سے لوٹ کر دوسری گلی میں سے نکل جائے گا۔لیکن اگر