انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 448

انوار العلوم جلد 24 448 مجلس خدام الاحمدیہ کے عہدیداران کا کن صفات وقت آنے پر کچھ حصہ اس کا خدمت خلق کے کاموں میں صرف کیا جاسکے۔قادیان میں یہ ہو تا تھا کہ زیادہ زور عمارتوں پر رہتا تھا۔حالانکہ اگر کوئی عمارت بنانی ہی ہے تو پہلے اس کا ایک حصہ بنالیا جائے کچھ کچھے کمرے بنا لئے جائیں۔جماعت بڑھتی جائے گی تو چندہ بھی زیادہ آئے گا اور اس سے عمارت آہستہ آہستہ مکمل کی جاسکے گی پس اپنے بجٹ کا ایک حصہ خدمت خلق کے لئے وقف رکھو۔جیسے ہلال احمر اور ریڈ کر اس کی سوسائٹیاں کام کر رہی ہیں اگر تم آہستہ آہستہ ایسے فنڈز جمع کرتے رہو تو ہنگامی طور پر یہ رقوم کام آجائیں گی نہ مثلاً بنگال میں سیلاب آیا تو جماعت کی طرف سے نہایت اچھا کام کیا گیا لیکن چونکہ چندہ دیر سے جمع ہوا اس لئے کام ابھی تک جاری ہے۔چندہ جب مانگا گیا تھا تو صرف مشرقی پاکستان کا نام لیا گیا تھا پنجاب کا نام نہیں لیا گیا تا کہ مزید چندہ مانگنے پر جماعت پر مالی بوجھ نہ پڑے۔اگر اس قسم کی رقوم پہلے سے جمع ہو تیں تو جمع شدہ چندہ ہم مشرقی پاکستان پر خرچ کر دیتے اور ان رقوم میں سے ایک حصہ پنجاب میں خرچ کر دیا جاتا۔پس ہر سال بجٹ میں اس کے لئے بھی کچھ مار جن رکھ لیا جائے اور تھوڑی بہت رقم ضرور الگ رکھی جائے وہ رقم ریز رو ہو گی جو قحط اور سیلاب وغیرہ مواقع پر صرف کی جائے گی تم اس کا کوئی نام رکھ لو ہماری غرض صرف یہ ہے کہ اس طرح ہر سال کچھ رقم جمع ہوتی رہے جو کسی حادثہ کے پیش آنے یا کسی بڑی آفت کے وقت خدمت خلق کے کاموں پر خرچ کی جاسکے۔جاپان میں زلزلے کثرت سے آتے ہیں۔فرض کرو وہاں کوئی ایساز لزلہ آ جائے جس قسم کا زلزلہ پچھلے دنوں آیا تھا اور اس کے نتیجہ میں دو تین ہزار آدمی مر گئے تھے تو ایسے مواقع پر اگر خدام الاحمدیہ کی طرف سے گورنمنٹ کے واسطہ سے کچھ رقم وہاں بھیج دی جائے تو خود بخود خدام الاحمدیہ کا نام لوگوں کے سامنے آجائے گا۔اس قسم کی مدد سے بین الا قوامی شہرت حاصل ہو جاتی ہے اور طبائع کے اندر شکریہ کا جذبہ پیدا کر دیتی ہے اگر اس قسم کے مصائب کے وقت کچھ رقم تار کے ذریعہ بطور مدد بھیج دی جائے تو دوسرے دن ملک کی سب اخبارات میں مجلس کا نام چھپ جائے گا۔پچھلے طوفان میں ہی اگر خدام کے مختلف وفود بنالئے جاتے اور تنظیم کے ذریعہ سے باہر کی مجالس سے