انوارالعلوم (جلد 24) — Page 449
انوار العلوم جلد 24 449 مجلس خدام الاحمدیہ کے عہدیداران کا کن صفار آدمی منگوا لئے جاتے تو زیادہ سے زیادہ آدمی سیلاب زدہ لوگوں کی امداد کے لئے بھیجے جاسکتے تھے۔مثلاً سیلاب کا زیادہ زور ملتان، سیالکوٹ اور لاہور کے اضلاع میں تھا اگر ان ضلعوں کی مجالس کو منظم کیا جاتا اور باقی مجالس سے مدد کے لئے مزید آدمی آجاتے اور انہیں بھی امدادی کاموں کے لئے مختلف جگہوں پر بھیجا جاتا تو پھر ان کا کام زیادہ نمایاں ہو جاتا پھر یہ بھی چاہئے کہ حالات کو دیکھ کر غور کیا جائے کہ کس رنگ میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔لاہور میں میں نے دیکھا ہے کہ بعض جگہ چھپر ڈال کر لوگوں کو پناہ دی جاسکتی تھی اگر شہر کے ارد گرد تالابوں سے تنکے اور گھاس کاٹ کر لایا جاتا تو اس سے بڑی آسانی سے چھپر بنا کر چھت کا کام لیا جا سکتا تھا اس طرح لکڑی کے مہیا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔اسی طرح اس قسم کے مواقع پر پکے مکانات کی ضرورت نہیں ہوتی پھیکے کی عمارت کی ضرورت ہوتی ہے اور لکڑی کی بجائے بانس اور تنکوں کا چھت بنا دیا جاتا ہے۔لاہور میں کئی ایسی جگہیں تھیں جہاں سردی سے بچاؤ کے لئے چھت کی ضرورت تھی یہ سب کام آرگنائزیشن سے ہو سکتے تھے۔ہمارے محکمہ خدمت خلق کا یہ کام ہے کہ نہ صرف وہ مجالس کو آر گنائز کرے بلکہ اس قسم کا انتظام کرے کہ اگر کسی جگہ کوئی خرابی پیدا ہو جائے تو کس طرح ساری جماعت کا زور اس طرف ڈالا جاسکے۔آئندہ میرے پاس رپورٹیں آتی رہنی چاہئیں کہ کس طرح خدمت خلق کے کام کو آر گنائز کیا گیا ہے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بعض حلقے بنا دیئے جائیں اور ان کی آپس میں آرگنائزیشن کر دی جائے۔جیسے زونل سسٹم ہوتا ہے اس طرح صوبہ کے مختلف زون مقرر کر دیئے جائیں مثلاً یہ کہا جاسکتا ہے کہ ملتان کے ارد گرد سوسو میل کا ایک زون بنا دیا جائے۔اس علاقہ میں آبادی کم ہے اس لئے اس سے بڑا زون بھی بنایا جا سکتا ہے پھر ہر زون میں خدمت خلق کا ایک افسر مقرر کیا جائے جو مصیبت آنے پر دوسری مجالس کو تار دے دے کہ فلاں جگہ پر مصیبت آئی ہے۔امدادی کاموں کے لئے خدام بھیج دیئے جائیں۔اسی طرح یاد رکھو کہ ہمارا ملک ایسے حالات سے گزر رہا ہے کہ اس میں نہ صرف بڑے بڑے طوفان آسکتے ہیں بلکہ طوفان لائے بھی جاسکتے ہیں۔ہم نچلے علاقہ میں ہیں اور