انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 443

انوار العلوم جلد 24 443 مجلس خدام الاحمدیہ کے عہدیداران کا کن صفار مل چکا ہے اور وہ تمہارے پاس بہت جلد پہنچ جائے گا لیکن یہ جو اب تب دیا گیا تھا جب اس کا مکان جل کر دوبارہ بھی تعمیر ہو چکا تھا۔اس نے اس جواب کے جواب میں لکھا کہ آپ کا شکریہ مگر اب تو مکان جل کر دوبارہ بھی تعمیر ہو چکا ہے اب فائر بریگیڈ کی ضرورت نہیں۔میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ میں ایک دفعہ قادیان کے قریب ایک گاؤں پھیر و چیچی گیا۔وہاں میں اکثر دفعہ جایا کرتا تھا وہاں میری کچھ زمین بھی تھی شروع میں ہم وہاں خیمے لگا کر رہتے تھے ایک دفعہ باورچی نے مجھے اطلاع دی کہ آٹا ختم ہو گیا ہے اس لئے مزید آٹا پسوانے کا انتظام کر دیا جائے صرف ایک وقت کا آٹا باقی ہے۔مہمان کثرت سے آتے جاتے ہیں اس لئے اس کا انتظام جلد کر دیا جائے میں نے ایک دوست کو بلایا ان کا نام قدرت اللہ تھا اور وہ میری زمینوں پر ملازم رہ چکے تھے۔میں نے انہیں کہا کہ آٹا ختم ہو چکا ہے صرف ایک وقت کا آٹا باقی ہے مہمان کثرت سے آتے ہیں اس لئے دو بوریاں آٹا پسوالاؤ۔وہاں قریب ہی تیس کے قریب پن چکیاں تھیں اس لئے آٹا پسوانے میں کوئی دقت نہیں تھی۔میں نے انہیں یہ ہدایت کی کہ اس بارہ میں سستی نہ کرنا۔یہ نہ ہو کہ مہمانوں کو آٹانہ ہونے کی وجہ سے کوئی تکلیف ہو۔گاؤں سے اتنا آٹا نہیں مل سکتا چنانچہ وہ اسی وقت چلے گئے تا آٹا پسوانے کا انتظام کریں۔میں نے انہیں چلتے چلتے بھی تاکید کی کہ آٹا جلد پسوا کر لانا اس میں سستی نہ کرنا۔دوسرے دن صبح کا وقت آیا۔کھانا تیار ہو کر آگیا اور ہم نے کھا لیا۔شام ہوئی تو کھانا آگیا میں نے خیال کیا کہ آٹا آگیا ہو گا لیکن بعد میں باورچی نے بتایا کہ اس وقت تو ہم نے گاؤں کے دوستوں سے تھوڑا تھوڑا آٹا مانگ کر گزارہ کر لیا ہے کل کے لئے آٹے کا انتظام کرنا مشکل ہے آپ آٹا پسوانے کا جلد انتظام کر دیں۔اتنے چھوٹے سے گاؤں میں اس قدر آئے کا انتظام نہیں ہو سکتا میں نے سمجھا چلو اس وقت آٹا نہیں آیا تو صبح آجائے گا لیکن صبح کے وقت بھی آٹا نہ آیا۔میں نے کہا چلو اس وقت گاؤں سے تھوڑا تھوڑا آٹا مانگ کر گزارہ کر لو امید ہے شام تک آٹا آجائے گا۔ویسے تو گاؤں میں چار پانچ سواحمدی تھے لیکن کسی ایک گھر سے اس قدر آئے کا انتظام مشکل تھا چٹکی چٹکی آٹا مانگنا پڑتا تھا۔اب 48 گھنٹے گزر چکے تھے لیکن میاں قدرت اللہ صاحب