انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 409

انوار العلوم جلد 24 409 تحقیقاتی کمیشن کے تین سوالوں کے جواب کوئی خطرہ نہیں ہے اور یہ کہ جب کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا ہم اسے پکڑ لیں گے۔لیکن جب فساد کی صریح انگیخت بعض لوگ کرتے تھے تو کبھی لوکل افسروں کے توجہ دلانے پر یہ کہہ دیا جاتا تھا کہ یہ آدمی اہم نہیں حالانکہ فسادات کے لئے ملکی اہمیت نہیں دیکھی جاتی علاقائی اہمیت دیکھی جاتی ہے۔اور کبھی یہ کہہ دیا جاتا کہ اگر اس وقت کسی کو پکڑا گیا تو شورش بڑھ جائے گی حالانکہ شورش کے بڑھنے کا خطرہ تو زمانہ کی لمبائی کے ساتھ لمبا ہوتا ہے۔اس وقت خاموش رہنے کے یہ معنی تھے کہ شورش کے بڑھنے کو اور موقع دیا جائے حالانکہ شہادتوں سے صاف ثابت ہے کہ مرکزی حکومت سے دو ٹوک فیصلہ چاہنے کی کبھی بھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔اور کبھی یہ کہہ دیا جاتا کہ چونکہ مرکزی حکومت نے ابھی تک اصل مسئلہ کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا اس لئے ہمارا دخل دینا مناسب نہیں۔کبھی انسپکٹر جنرل پولیس توجہ دلاتا تو خاموشی اختیار کی جاتی اور سمجھ لیا جاتا کہ ہم ایک دفعہ فیصلہ کر چکے ہیں اب مزید اظہار رائے کی ضرورت نہیں۔کبھی مقامی حکام یا پولیس اگر بعض لوگوں کو پکڑ لیتی تو ہماری حکومت ان کو اس لئے رہا کرنے کا آرڈر دے دیتی کہ وہ لوگ اب پچھلے کام پر پشیمان ہیں۔حالانکہ گزشتہ تاریخ احرار کی اس کے خلاف تھی جیسا کہ شہادتوں سے ثابت ہے اور مستقبل نے بھی اس خیال کو غلط ثابت کر دیا۔یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ان لوگوں نے اصلاح کی۔شہادتیں اور لٹریچر اس کے خلاف ہے۔گویا ایک لاکھ یا دو لاکھ پاکستانیوں کی جان کی کوئی قیمت نہیں تھی، اس کے لئے حکومت کو کسی قدم کے اٹھانے کی ضرورت نہیں تھی۔آخر اگر کسی نے ملک میں کوئی غیر آئینی تقریر نہیں کی تھی، اگر تمام لیڈ ر لوگوں کو امن سے رہنے اور احمدیوں کی جان کی حفاظت کرنے کا وعدہ کر رہے تھے اور حکومت کو ان کے وعدوں پر اعتبار تھا تو یہ کس طرح ہوا کہ احمدی قتل کئے گئے اور ان کی جائیدادیں تباہ کر دی گئیں، ان کے گھروں کو آگ لگا دی گئی اور کئی جگہ پر انہیں مجبور کر کے ان سے احمدیت ترک کروائی گئی۔ہم نہیں کہہ سکتے کہ کوئی احمدی اپنے عقیدہ کو ترک نہیں کر سکتا۔دنیا میں ہمیشہ سے ہی لوگ اپنے عقائد چھوڑتے آئے ہیں اگر کوئی احمدی بھی اپنا عقیدہ چھوڑ دے تو یہ کوئی