انوارالعلوم (جلد 24) — Page 391
انوار العلوم جلد 24 391 تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان جواب: وہ احمدیوں کی قادیانی جماعت سے تو یقیناً تعلق نہ رکھتے تھے مگر میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ لاہوری جماعت سے تعلق رکھتے تھے یا نہیں۔بہر حال 1953ء میں انڈونیشن سفیر یقیناً احمدی نہ تھے۔مولانا میکش کے سوال: کیا آپ نے اپنے ایک خطبہ میں وہ الفاظ کہے جن کی رپورٹ الفضل مورخہ 3 جنوری 1952ء (دستاویز ڈی۔ای326) میں شائع ہوئی ہے؟ جواب: میں رپورٹ کے الفاظ کے متعلق تو وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن یہ رپورٹ بہت حد تک اُن الفاظ کے مفہوم کی آئینہ دار ہے جو میں نے کہے۔میں نے یہ سب کچھ آفاق مورخہ 6 دسمبر 1951ء کے ایک مقالہ کے جواب میں کہا تھا۔سوال: اس رپورٹ میں آپ یا آپ کے کسی جانشین کے پاکستان کے فاتح ہونے کی طرف اشارہ ہے؟ جواب: آپ رپورٹ کو غلط طور پر پیش کر رہے ہیں اس میں ایسی کوئی بات نہیں۔عدالت کا نوٹ: اس یقین دلانے کے باوجود کہ مرزا غلام احمد صاحب یا گواہ کی کہی ہوئی کوئی بات یا جماعت احمدیہ کے شائع کردہ لٹریچر کو عدالت ایک مستقل شہادت کی صورت میں تسلیم کرے گی۔اس وقت تک جو بھی سوالات کئے گئے ہیں وہ تقریباً سب کے سب ایسی ہی تحریروں سے متعلق ہیں۔یہ محض تضییع اوقات ہے اور ہم اس بارہ میں مزید سوالات کرنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں۔مسٹر نذیر احمد خاں صاحب ایڈووکیٹ کے مزید سوالات عدالت کی اجازت سے سوال: سول و ملٹری گزٹ کے 23 فروری 1953ء کے پرچہ میں آپ کا ایک بیان شائع ہوا تھا۔کیا خواجہ نذیر احمد ایڈووکیٹ اس بیان کے شائع ہونے سے قبل یا بعد