انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 357

انوار العلوم جلد 24 357 تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان سوال: کیا دوسرے مفہوم کے لحاظ سے احمدی ایک جداگانہ کلاس نہیں ہیں ؟ جواب: ہم کوئی نئی اُمت نہیں ہیں بلکہ مسلمانوں کا ہی ایک فرقہ ہیں۔سوال: کیا ایک احمدی کی اوّلین وفاداری اپنی مملکت کے ساتھ ہوتی ہے یا کہ اپنی جماعت کے امیر کے ساتھ ؟ جواب: یہ بات ہمارے عقیدہ کا حصہ ہے کہ ہم جس ملک میں رہتے ہوں اُس کی حکومت کی اطاعت کریں۔سوال: کیا 1891ء سے پہلے مرزا غلام احمد صاحب نے بار بار نہیں کہا تھا کہ وہ نبی نہیں ہیں اور یہ کہ ان کی وحی وحی نبوت نہیں بلکہ وحی ولایت ہے؟ جواب: اُنہوں نے 1900ء میں لکھا تھا کہ اُس وقت تک اُن کا یہ خیال تھا کہ ایک شخص صرف اُس صورت میں ہی نبی ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی نئی شریعت لائے لیکن اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ انہیں بتلایا کہ نبی ہونے کے لئے شریعت کا لانا ضروری شرط نہیں اور یہ کہ ایک شخص نئی شریعت لائے بغیر بھی نبی ہو سکتا ہے۔سوال: کیا مر زا غلام احمد صاحب معصوم تھے ؟ جواب: اگر تو لفظ معصوم کے معنے یہ ہیں کہ نبی کبھی بھی کوئی غلطی نہیں کر سکتا تو ان معنوں کے لحاظ سے کوئی فرد بشر بھی معصوم نہیں حتی کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان معنوں کے لحاظ سے معصوم نہ تھے۔جب معصوم کا لفظ نبی کے متعلق بولا جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ وہ اس شریعت کے کسی حکم کی جس کا وہ پابند ہو خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی قسم کے گناہ کا خواہ وہ کبیر ہ ہو یا صغیرہ مر تکب نہیں ہو سکتا بلکہ وہ مکروہات کا بھی مر تکب نہیں ہو سکتا۔کئی نبی ایسے گزرے ہیں جو کوئی نئی شریعت نہیں لائے تھے۔وہ امور جو شریعت سے تعلق نہ رکھتے ہوں اُن کے بارہ میں نبی اپنے اجتہاد میں غلطی کر سکتا ہے مثلاً دو فریق مقدمہ کے درمیان تنازعہ کے بارہ میں اُس سے غلط فیصلہ کا صادر ہو نا نا ممکن نہیں ہے