انوارالعلوم (جلد 24) — Page 295
انوار العلوم جلد 24 295 سیر روحانی (7) تھی۔آپ نے فرمایا کیا گستاخی کی تھی؟ انہوں نے کہا اس نے کہا تھا مجھے اُس خدا کی قسم ہے جس نے موسی کو سارے رسولوں سے افضل بنایا ہے۔تو اس نے آپ کی ہتک کی اور حضرت موسی کو سب رسولوں سے افضل قرار دیا۔مجھے غصہ آگیا اور میں نے تھپڑ مارا۔آپؐ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا۔لَا تُفَضِلُونِي عَلَى مُؤسَى 11 تمہارا کیا حق ہے کہ لوگوں کے جذبات کو مجروح کرو۔تم مجھے یہودیوں کے سامنے موسی پر فضیلت نہ دیا کرو۔کتنا انصاف ہے۔کیا دُنیا کا کوئی اور انسان ہے جس نے باوجود اس کے کہ وہ خود دعویدار ہو کہ میں بڑا ہوں کہا ہو کہ دوسروں کے سامنے تم نے مجھ کو موسی پر کیوں فضیلت دی اس کا یہی حق ہے کہ وہ کہے موسیٰ مجھ سے بڑا ہے۔پھر فرمایا۔وَلَا تَسُبُوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُوا اللهَ عَدُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ 12 دیکھو جن بتوں کی لوگ پوجا کرتے ہیں یا جن انسانوں کی لوگ پوجا کرتے ہیں، اُن کے متعلق کبھی کوئی بُر الفظ نہیں بولنا ورنہ پھر اُن کا بھی حق ہو جائے گا کہ وہ مقابل میں تمہارے خدا کو بھی گالیاں دیں اس طرح تم اپنے خدا کو گالیاں دینے کا موجب بنو گے۔گویا قرآن اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ مسلمان اور عیسائی جذبات کے لحاظ سے برابر ہیں، سچے مذہب والا اور جھوٹے مذہب والا دونوں برابر ہیں اگر اس کو حق ہے کہ اُسکے جذبات کو تلف کرے تو اس کا بھی حق ہے کہ وہ ایسا کرے۔اگر یہ چاہتا ہے کہ اسکے جذبات کی ہتک نہ کی جائے تو پھر اُس کا فرض ہے کہ وہ دوسرے کے جذبات کی بھی ہتک نہ کرے۔جوشِ انتقام میں بھی عدل و انصاف پھر جوش اور غضب میں انتقام کی طرف منتقل نہ ہونے کے لئے فرمایا کو ملحوظ رکھنے کی تاکید يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوْمِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى الاَ تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى * وَ اتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ 13 یعنی اے مؤمنو ! تم اللہ تعالیٰ کے لئے کھڑے۔ہو جاؤ۔یعنی صرف خدا کی خاطر ہر کام کرو اور خدا تعالیٰ کے لئے تم گواہی دو کہ وہ منصف ہے۔یعنی اپنے عمل سے ثابت کرو کہ اگر تم منصف ہو تو پتہ لگ جائے کہ خدا نے تم کو