انوارالعلوم (جلد 24) — Page 275
انوار العلوم جلد 24 275 سیر روحانی (7) اسلامی نوبت خانہ کی ایک امتیازی خصوصیت یہ عجیب بات ہے کہ اسلامی نوبت خانہ کا کمال اتنابڑھا ہوا تھا کہ آٹھ سالہ جنگوں میں چھ سات جنگوں میں کفار نے مکہ سے حملہ کیا اور بڑی بڑی احتیاطوں کے ساتھ حملہ کیا لیکن ایک بھی ایسا حملہ ثابت نہیں جس کی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر نہ مل چکی تھی اور ہیں تیس حملے محمد رسول اللہ نے اُن کے علاقہ پر کئے اور اُن میں سے ایک بھی حملہ ایسا نہیں جسکی خبر انہیں پہلے سے ملی ہو۔یہ کتنا بڑا شاندار نشان ہے۔ان کا نوبت خانہ کتنا شاندار ہے کہ فورا خبر پہنچا دیتا ہے اور اُن کا نوبت خانہ کس طرح تباہ کر دیا جاتا ہے اور کمزور کر دیا جاتا ہے کہ ایک لڑائی کی خبر بھی تو مکہ والوں کو پہلے نہیں ملتی کہ حملہ ہو جائے گا۔بلکہ اسلامی لشکر اُن کے سروں پر جا پہنچتا تھا اور بعض دفعہ وہ گھروں میں اِدھر اُدھر پھر رہے ہوتے تھے کہ پتہ لگتا اسلامی لشکر پہنچ گیا ہے پہلے پتہ ہی نہیں لگتا تھا۔نوبت خانوں کی دوسری غرض دوسرا کام نوبت خانہ سے یہ لیا جاتا تھا کہ خبر دی جاتی تھی کہ شاہی فوج آرہی ہے۔نوبت خانے اس لئے بجائے جاتے تھے کہ والنٹیئر اکٹھے ہو جائیں اور دوسرے نوبت خانے اسلئے بجائے جاتے تھے کہ دھم دھم کی آواز جوش پیدا کرتی ہے اور گھوڑے بھی ہنہنانے لگ جاتے ہیں۔جیسے انگریزی فوجوں میں نوبت خانوں کی بجائے بینڈ بجایا جاتا ہے اور اُس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کے اندر جوش پید اہو اور وہ قربانی کے لئے تیار ہو جائیں۔بعض جگہ باجے بھی ہوتے ہیں یا نفیریاں 29 بھی ہوتی ہیں اور پرانے زمانہ میں تو ڈھول استعمال ہوتے تھے یا نفیریاں استعمال ہوتی تھیں اور اب بینڈ استعمال ہوتا ہے۔میں نے دیکھا کہ واقع میں یہ ایک بڑی شاندار کیفیت ہوتی ہو گی جب دتی کا لشکر حیدر آباد کی طرف چلتا ہو گا تو جب وہ بڑی بڑی دفیں بجتی ہو نگی اور آواز پہنچتی ہو گی تو تمام ملک میں ایک شور مچ جاتا ہو گا اور ہر شخص دیکھتا ہو گا کہ اُن کے گھوڑے پیر مارتے ہوئے اور آگ نکالتے ہوئے سڑکوں پر سے چلے آرہے ہیں اور انتظار کرتا ہو گا کہ اکبر یا