انوارالعلوم (جلد 24) — Page 267
انوار العلوم جلد 24 267 سیر روحانی (7) تھوڑی دیر کے بعد آپ نے فرمایا۔عباس ! ابوسفیان کو اپنے خیمہ میں لے جاؤ اور رات کو اپنے پاس رکھو۔صبح اسے میرے سامنے پیش کرو۔حضرت عباس لے گئے اور رات اپنے پاس رکھا۔مسلمانوں کی اجتماعی عبادت کا ابوسفیان پر گہرا اثر اب دیکھو ابو سفیان پہرہ دے رہے تھے اور انہوں نے واپس جا کر خبر دینی تھی لیکن وہ خود پکڑے گئے۔اُدھر باقی مسلمان سپاہی دوسرے آدمیوں کو بھی پکڑ لائے۔یہ چار پانچ رئیس تھے۔پکڑے ہوئے وہاں پہنچے اور رات وہاں رہے۔صبح نماز کے وقت حضرت عباس ابوسفیان کو پکڑ کر لے گئے۔جب اذان ہوئی اور نماز کے لئے لوگ کھڑے ہوئے تو اُسے ایک عجیب نظارہ نظر آیا۔یہیں جلسہ سالانہ پر دیکھ لو کہ جب ہمارے تیس چالیس ہزار آدمی نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو کیا شاندار نظارہ ہوتا ہے۔وہاں بھی صفوں پر صفیں بننی شروع ہو گئیں اور ہر ایک آدمی نماز کے لئے کھڑا ہو گیا۔ہمارے ہاں تو پھر کچھ آدمی نماز کے وقت پکوڑے کھا رہے ہوتے ہیں مگر وہ لوگ پیسے نمازی تھے۔بہر حال ابوسفیان نے جو ان کو دیکھا تو لرز گیا۔ابو سفیان بادشاہوں کے دربار میں آیا جایا کرتا تھا اور اُس کو پتہ تھا کہ جب بڑے آدمیوں کو مروانا ہو تا تھا تو فوجیں کھڑی کی جاتی تھیں اور اُن کے سامنے اُس کی گردن کاٹی جاتی اِس خیال کے ما تحت اُس نے پوچھا کہ عباس ! کیا رات کو میرے متعلق کوئی نیا حکم جاری ہوا ہے ؟ حضرت عباس نے کہا۔تمہارے متعلق تو کوئی نیا حکم جاری نہیں ہوا۔وہ کہنے لگا پھر یہ اتنے آدمی کھڑے کیوں ہیں ؟ حضرت عباس نے کہا یہ عبادت کے لئے کھڑے ہوئے ہیں اور ہمارے ہاں عبادت کا یہی طریق ہے۔تھوڑی دیر کے بعد وہ رکوع میں گئے۔کہنے لگا۔یہ مجھکے کیوں ہیں؟ عباس نے کہا۔یہ عبادت ہے۔پھر سجدہ میں گئے تو کہنے لگا اب یہ کیا ہوا کہ سارے کے سارے زمین پر گر گئے ہیں؟ انہوں نے کہا دیکھتے نہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کر رہے ہیں۔بس جو کچھ وہ کرتے ہیں وہی کچھ مسلمان کرتے ہیں۔کہنے لگا عجیب طریق ہے محمد رسول اللہ جھکتے