انوارالعلوم (جلد 24) — Page 266
انوار العلوم جلد 24 266 سیر روحانی (7) حضرت عباس کی ابوسفیان کو بچانے کی کوشش حضرت عمرؓ نے دیکھا تو تلوار نکال کر بھاگے اور کہنے لگے خدا کا کتنا شکر ہے کہ بغیر عہد شکنی کئے مجھے آج اس کی جان نکالنے کی توفیق ملی اور آپ ہی آپ خدا نے دشمن میرے ہاتھ میں دے دیا ہے۔حضرت عباس نے دیکھا تو وہ آگے بھاگے۔حضرت عمر پیچھے پیچھے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ کے پاس پہنچے تو حضرت عباس نے ابو سفیان کو دھکا دیکر نیچے پھینکا اور کہا۔انتر۔پھر آپ کو دے اور گود کر اُس کا ہاتھ پکڑ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ میں پہنچے اور کہا یارسول الله ! ابو سفیان مسلمان ہونے کے لئے آیا ہے۔اب ابوسفیان حیران کہ یہ کیا بن گیا۔یا تو میں پہرہ دے رہا تھا اور یا اب مجھے مسلمان ہونے کیلئے کہا جا رہا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے کیونکہ اس کی شکل سے پتہ لگتا تھا کہ یہ مسلمان ہونے نہیں آیا۔اتنے میں حضرت عمر بھی داخل ہوئے اور کہا۔يَارَسُوْلَ اللہ ! یہ خدا تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس خبیث اور بے ایمان دشمن خدا اور رسول کو اُس نے بغیر اس کے کہ میں عہد شکنی کروں اور معاہدہ توڑوں آپ میرے حوالے کر دیا ہے۔آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے لیکن حضرت عباس کو غصہ آگیا کیو نکہ وہ ان کا بہت دوست تھا۔انہوں نے عمرؓ سے کہا۔عمر ! دیکھو یہ میرے خاندان کا آدمی ہے اس لئے تم اس کو مارنا چاہتے ہو۔اگر تمہارے خاندان کا آدمی ہو تا تو تم کبھی اس کے مارنے کی خواہش نہ کرتے۔حضرت عمر کی آنکھوں میں آنسو آگئے کہنے لگے۔عباس! تم نے مجھ پر بڑی زیادتی کی ہے۔خدا کی قسم! جب تم مسلمان ہوئے تھے تو مجھے اتنی خوشی ہوئی تھی کہ اگر میراباپ بھی مسلمان ہوتا تو مجھے کبھی اتنی خوشی نہ ہوتی۔اور اس کی صرف یہ وجہ تھی کہ میں سمجھتا تھا کہ تمہارے مسلمان ہونے سے رسول اللہ کو جو خوشی پہنچ سکتی ہے وہ میرے باپ کے اسلام لانے سے نہیں پہنچ سکتی تھی۔یعنی ہم نے تو اپنے باپ دادوں کو بھی چھوڑ دیا اب رشتہ داری کا کیا سوال ہے۔مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔