انوارالعلوم (جلد 24) — Page 183
انوار العلوم جلد 24۔183 پہنچیں۔لاکھوں میں سے سینکڑوں کتابیں اور نکل آئیں گی جن میں وفات مسیح پر لوگوں نے لکھا ہے مگر ان کے علاوہ غیر قوموں میں بھی اس کا علم موجود ہے مثلاً مسیح کی صلیب کا واقعہ رومی حکومت کے ماتحت گزرا ہے اور رومی حکومت کوئی قبیلہ نہیں تھا۔رومی حکومت آدھی دنیا پر حاکم تھی۔اس تاریخ میں اُس کے ہر چھوٹے سے چھوٹے واقعہ کو بڑی تفصیل سے لکھا ہوا ہے۔مسیح کے واقعات بھی اُس کے جو مختلف گزٹ ہیں یا مختلف تاریخیں ہیں اُن میں وہ درج ہیں لیکن ہمارے ہاں کسی نے کبھی بھی توجہ نہیں کی کہ مسیح کے واقعات کو اُس زمانہ کی تاریخ میں سے نکال کر دیکھے۔انہوں نے مسیح کی ولادت کو کس طرح ثابت کیا ہے اگر وہ نکالیں تو بیسیوں قسم کی روشنیاں اُس پر پڑ جائیں گی۔مثلاً مسیح کے واقعہ میں یہ بھی ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یوسف کی حضرت مریم سے شادی ہوئی اور وہ یوسف کے ہی بیٹے تھے لیکن جب رومی تاریخوں میں ہم نے پڑھا تو وہاں یہ نکلا کہ مریم پر اعتراض کیا جاتا تھا کہ اُس کا یہ حرام کا بچہ ہے۔اب اگر واقع میں خاوند ہوتا اور خاوند کا بچہ ہوتا تو لوگ خاوندوں والی بیوی کو کبھی کہا کرتے ہیں تیر احرام کا بچہ ہے ؟ یہ ایک تصدیق مل گئی حضرت صاحب کے خیال کی یا پرانے محققین کے خیال کی۔اس میں حضرت صاحب بھی متفق ہیں پرانے محققین سے۔اور پرانے محققین ہمارے ساتھ متفق ہیں۔تو اگر ان حوالوں کو نکالا جائے تو بیسیوں چیزیں اس میں نکل آئیں گی۔مثلاً وقت جو ہے صلیب کا وہ بھی نکل آئے گا۔افسروں کا رویہ بھی نکل آئے گا۔یہ بھی نکل آئے گا کہ صلیب پر کتنے وقت میں موت ہوتی ہے۔ہم نے چند حوالے نکالے ہیں لیکن اس میں تفصیلاً ہزاروں ہزار واقعات پھانسی کے درج ہوں گے۔اُس میں بعض شائد ایسے بھی واقعات مل جائیں کہ بعضوں کو جلدی اتارا تو وہ زندہ تھے۔تو اگر رومی تاریخوں کو ہمارے آدمی پڑھنا شروع کریں اور اُن میں سے ایسے واقعات جمع کرنا شروع کریں تو ایک نیا مضمون پیدا ہونا شروع ہو جائے گا اور پھر یہ ہے کہ جب انسان ان تاریخوں کو پڑھتا ہے تو بیسیوں اور مضمون بھی نکل آتے ہیں۔رومی حکومت ایک منظم حکومت تھی۔آج تک یوروپین قانون جو بن رہا ہے تو وہ رومن لاء پر بنتا ہے بعض