انوارالعلوم (جلد 24) — Page 167
انوار العلوم جلد 24 ย 167 اُس کو مارے اور دوسر اس کو کاٹے اور بہت بُری طرح لہولہان کر دیا۔اُس نے کہا اب شیر چھوڑ دو۔شیر جو پنجرے میں سے اُس جگہ پر سے گزرا تو معاً آتے ہی اُن کی لڑائی چھٹ گئی اور دونوں کتے ایک دائیں ہو گیا اور ایک بائیں ہو گیا۔وہ ادھر جھپٹے۔جب وہ ادھر منہ کرے تو پیچھے سے وہ کاٹ لے۔جب وہ اُدھر منہ کرے تو وہ کاٹ لے۔بُرا حال شیر کا کر دیا۔تو وہ تو خیر دشمن تھا اس نے مسلمانوں کی گندی مثال دینی تھی۔کہنے لگا علی اور معاویہ والی یہی مثال ہے۔یہ لڑ تو رہے ہیں پر آپ گئے نا تو انہوں نے اکٹھے ہو جانا ہے۔وہ جانتا تھا کہ مسلمان کیریکٹر اُس وقت تک اتنا مضبوط تھا کہ وہ اسلام کی خاطر اپنے بڑے سے بڑے اختلاف کو بُھول سکتا تھا۔لیکن بادشاہ نے اُس کے مشورہ کو قبول نہ کیا اور فوج کو موبے لائنز (MOBILIZE) کرنے کا حکم دے دیا۔جب رومی فوج کے موبے لائنز (MOBILIZE) ہونے کی اطلاع اسلامی ملک میں پہنچی تو حضرت معاویہ نے اُس کو خط لکھا۔انہوں نے لکھا میں نے سنا ہے کہ تم اسلامی ملک پر حملہ کرنا چاہتے ہو اور یہ جرآت تم کو اس وجہ سے ہوئی ہے کہ میں علی سے لڑ رہا ہوں لیکن میں تمہیں بتادینا چاہتا ہوں کہ اگر تمہاری فوجوں نے اسلامی ملک کا رُخ کیا تو سب سے پہلا جرنیل جو علی کی طرف سے تم سے لڑنے کے لئے نکلے گا وہ میں ہوں گا۔3 اُسی وقت میں اختلاف چھوڑ کر علی کی اطاعت کرلوں گا اور اس کی طرف سے لڑنے کے لئے نکلوں گا۔بادشاہ ڈر گیا اُس نے کہا بطریق 4 والی بات ٹھیک ہے۔رض تو ہمارے لئے اس قسم کے مصائب اور مشکلات پیش آرہے ہیں اور اُس کی حفاظت جو ہے وہ خدا تعالیٰ نے ہمارے ذمہ لگائی ہے۔دردِ اسلام کی ہمارے دلوں میں اُس نے جگہ رکھی ہے۔پس اسلام کا درد تمہیں پیدا کرنا چاہئے اور ہمیں اس کا ہمیشہ لحاظ کرنا چاہیئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہم دیکھتے ہیں اُن کے دل میں ہمیشہ دردِ اسلام تھا۔ایسی باتوں پر بڑی نرمی اور بڑی محبت سے کام لیتے تھے۔یہاں ایک غیر احمدی صاحب کچھ تحقیقات کے لئے پٹھانوں کی طرف سے آئے۔کوئی پانچ سات دن ہوئے مجھے ملے تو کہنے لگے مجھے یہاں بعض احمدی نوجوان ملے اور انہوں نے کہا کہ