انوارالعلوم (جلد 23) — Page 79
انوار العلوم جلد 23 79 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت، تعمیر ربوہ اور۔۔۔۔تمام مسلمان برابر ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان مسلمان ہو گئے ہیں؟ کیا مغربی پاکستان میں صوبائی عصبیت موجود نہیں ہے؟ کیا سرحد، بلوچستان اور سندھ میں یہ روح نہیں پائی جاتی ؟ میں تو سمجھتا ہوں کہ بنگال مستحق مبارکباد ہے جو تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود برابری پر راضی ہو گیا۔پس میرے نزدیک بے شک اس برابری پر اعتراض کیا جائے مگر اس وقت جب خود مغربی پاکستان کے صوبوں میں عصبیت کی روح نہ رہے اور جب مغربی پاکستان خود اپنے اندر اسلامی روح پیدا کر کے مشرقی بنگال کے دل کو موہ لے اور عملی قربانی کا نمونہ پیش کرے، جب دل صاف ہو جائیں گے تو پھر بے شک بنگال والوں کی بد گمانی کو نا مناسب قرار دینا مگر خود ایسا تعصب کرنا اور پھر اس برابری پر اعتراض کرنا ہمارے منہ سے زیب نہیں دیتا۔میرے نزدیک ایک بڑی بھاری کو تاہی ان سفارشات میں یہ ہوئی ہے کہ کشمیر کے پاکستان میں داخل ہونے کے متعلق کوئی دفعہ نہیں رکھی گئی حالا نکہ سفارشات میں یہ ہونا چاہئے تھا کہ اگر کوئی نیا ملک یا رقبہ پاکستان میں شامل ہو تو اسے کن اصولوں کے ماتحت نمائندگی دی جائے گی۔“ (الفضل 31 دسمبر 1952ء) ”یہ تو ابتدائی باتیں تھیں اب میں اصل تقریر کو لیتا ہوں۔میرے نزدیک اس سال کا بلکہ ہماری جماعت کی وفات حضرت اماں جان تاریخ میں سے ایک خاص عرصہ کا اہم واقعہ وفات حضرت اماں جان ہے۔حضرت اماں جان ایک زنجیر تھیں ہمارے درمیان اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درمیان۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نام اولاد کے ذریعہ چلتا ہے لیکن اولاد پھل تو ہے، درخت کا اپنا حصہ نہیں۔ہاں ایسی بیوی جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حصہ ہو گی وہ بے شک حصہ حقیقی معنوں سے ہی ہو گی، گوہر بیوی میں یہ قابلیت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے خاوند کا حصہ ہونے کا حق ادا کرے۔تم آم کے درخت کے آدھے حصہ کو کہتے ہو کہ یہ درخت کا ایک حصہ ہے۔یعنی تمہارے سامنے کیسے ہی عمدہ لنگڑے آم رکھ دیئے جائیں