انوارالعلوم (جلد 23) — Page 61
انوار العلوم جلد 23 61 وطن کی بے لوث خدمت کرنے پر کمر بستہ ہو جاؤ ملک کے دُشمن ہیں تو تم پہلے سے بھی بڑھ کر ملک کی خدمت پر کمر بستہ ہو جاؤ۔تا دشمن ہمارے ملک کو نقصان نہ پہنچا سکے۔تم اگر حکومت کے ملازم ہو تو حکومت کا کام پوری محنت عقل اور دیانت داری سے کرو۔اگر کوئی اور کاروبار کرتے ہو تو اسے محنت سے سر انجام دو۔اگر سلسلے کا کام کرتے ہو تو اسے محنت اور دیانت داری سے کرو۔غرض اگر تم واقع میں ملک کے وفادار اور خیر خواہ ہو تو ہر کام اس جذ بہ سے کرو اور اپنا یہ مطمح نظر بنا لو کہ تم نے کسی بھی شعبے اور کام میں دوسروں سے پیچھے نہیں رہنا بلکہ آگے ہی بڑھنا ہے کیونکہ اس میں ملک کا بھی فائدہ ہے اور دین کا بھی۔جب تک ہر احمد ی ڈاکٹر ، وکیل، تاجر ، کلرک، زمیندار اور مزدور اپنے اپنے شعبہ میں اپنا یہ مطمح نظر نہیں بناتا اس وقت تک ہر گز یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اپنا قومی فرض ادا کر رہا ہے “۔حضور نے خدمتِ خلق کی اہمیت واضح کرتے ہوئے اس کے مختلف طریق بیان فرمائے مثلاً سٹیشنوں پر مسافروں کی خدمت، جلسوں کے موقع پر انتظام، دیہات میں جاکر جہاں طبی امداد نہ ہونے کے برابر ہے چھوٹی چھوٹی اور معمولی بیماریوں کا علاج وغیرہ۔اس کے بعد حضور نے فرمایا:- اس وقت تک خدام نے خدمتِ خلق کے شعبے میں کوئی قابل ذکر اور نمایاں کام نہیں کیا۔حالانکہ تمہیں چاہئے کہ تم اپنے افادے کو خلق خدا کی سچی اور بے لوث خدمت کے لئے زیادہ سے زیادہ وسیع کرو“۔آخر میں حضور نے نصیحت فرمائی کہ :- تمہیں ہر روز کچھ وقت خاموشی کے ساتھ ذکر الہی یا مراقبے کے لئے خرچ کرنے کی عادت بھی ڈالنی چاہئے۔ذکر الہی کا مطلب یہ ہے کہ علاوہ نمازوں وغیرہ کے روزانہ تھوڑا سا وقت خواہ وہ ابتدا میں پانچ منٹ ہی ہو اپنے لئے مقرر کر لیا جائے جبکہ تنہائی میں خاموش بیٹھ کر تسبیح و تحمید کی جائے۔مثلاً سُبحَانَ اللَّهِ ، اَلْحَمْدُ لِلَّهِ اللَّهُ أَكْبَرُ اور اسی طرح دیگر صفات الہیہ کا ورد کیا جائے اور ان پر غور کیا جائے۔مراقبے کے یہ معنے ہیں کہ روزانہ کچھ دیر خلوت میں بیٹھ کر انسان اپنے نفس کا