انوارالعلوم (جلد 23) — Page 55
انوار العلوم جلد 23 55 خدام الاحمدیہ کے بارہویں سالانہ اجتماع میں افتتاحی خطاب ہوئے ہیں ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری پہلی بلوغت کے ساتھ ہی تمہیں ہوشیار کر دیا ہے تا کہ تم آنے والے خطرات کے مقابلہ کے لئے تیاری کر سکو۔خدام الاحمدیہ کے متعلق جو رپورٹیں مجھے ملی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ خطرات کے ایام میں احمدیوں کی مدد کرنے، عورتوں اور بچوں کو خطرات سے نکالنے اور اشتہارات وغیرہ کی اشاعت کے سلسلے میں انہیں خدا تعالیٰ نے اچھا کام کرنے کی توفیق دی ہے۔یہ ایک خوشکن علامت ہے لیکن ایسی نہیں جس پر ہم مطمئن ہو کر بیٹھ جائیں گو جیسا کہ میں نے کہا ہے یہ تمہاری بلوغت کا پہلا زمانہ ہے لیکن سب بالغ ایک ہی قسم کے نہیں ہوتے۔بعض ہیں سال کی عمر میں بھی عادتوں کے لحاظ سے ابھی بچے ہی ہوتے ہیں اور بعض بہت چھوٹی عمر میں ہی بڑے بڑے کارنامے کر کے دکھاتے ہیں۔اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ بارہ سال کی اس بلوغت تک پہنچنے کے بعد کیا تمہاری عقلیں اتنی تیز ہو گئی ہیں کہ تم ہر طرح کے خطرات کا مقابلہ کر سکو۔یوں تو مومن خدا کے حکم کے ماتحت اپنی حفاظت کرتا ہے لیکن اگر ایک طرف تمہاری جان ہو اور دوسری طرف ایمان تو کیا تم میں سے ہر ایک کی روح پلاتر قد، بلا تامل اور فوری طور پر اپنی جان کو خدا اور اپنے درمیان حائل سمجھتے ہوئے اسے قربان کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔خدا تعالیٰ نے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے اب تم اپنے دلوں کو مضبوط کرو اور آنے والے خطرات کے لئے تیاری کرو۔وہ تیاری اسی طرح ہو سکتی ہے کہ تم اپنے اوقات کو صحیح رنگ میں گزارو، زیادہ سے زیادہ تبلیغ کرو، زیادہ سے زیادہ خدمتِ خلق کر و۔خدمتِ خلق کے متعلق تمہارا کام ابھی نمایاں نہیں ہے۔زلزلہ اور اسی طرح کی دیگر مصیبتوں کے پڑنے پر یا جلسوں اور جلوسوں کے مواقع پر تمہیں کم از کم بوائے سکاؤٹس یا ریڈ کر اس جتنا نمونہ تو دکھانا چاہئے حالانکہ اصل میں تو ان سے سینکڑوں گنا زیادہ اعلیٰ نمونہ دکھانا چاہئے۔واضح رہے کہ خدمت خلق سے میری مراد محض احمدیوں یا مسلمانوں کی خدمت نہیں بلکہ بلا امتیاز مذہب و ملت، خدا کی ساری ہی مخلوق کی خدمت مراد ہے۔حتی کہ اگر دشمن بھی مصیبت میں ہو تو اس کی بھی مدد کرو۔یہ ہے خدمتِ خلق کا صحیح جذر