انوارالعلوم (جلد 23) — Page 558
انوار العلوم جلد 23 558 مسئلہ خلافت حکومتیں تباہ ہو گئی تھیں۔اتنی بڑی فتح اور اتنے عظیم الشان تغیر کی مثال تاریخ میں اور کہیں نہیں ملتی۔تاریخ میں صرف نپولین کی ایک مثال ملتی ہے لیکن اس کے مقابلہ میں کوئی ایسی طاقت نہیں تھی جو تعداد اور قوت میں اس سے زیادہ ہو۔جر منی کا ملک تھا مگر وہ اس وقت 14 چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم تھا۔اس طرح اس کی تمام طاقت منتشر تھی۔ایک مشہور امریکن پریذیڈنٹ سے کسی نے پوچھا کہ جرمنی کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ؟ تو اس نے کہا ایک شیر ہے، دو تین لومڑ ہیں اور کچھ چوہے ہیں۔شیر سے مراد رشیا تھا۔لومڑ سے مراد دوسری حکومتیں اور چوہوں سے مراد جر من تھے۔گویا جرمنی اُس وقت ٹکڑے ٹکڑے تھا۔روس ایک بڑی طاقت تھی مگر وہ روس کے ساتھ ٹکر ایا اور وہاں سے ناکام واپس لوٹا۔اس طرح انگلستان کو بھی فتح نہ کر سکا اور انجام اس کا یہ ہوا کہ وہ قید ہو گیا۔پھر دوسرا بڑا شخص ہٹلر آیا بلکہ دو بڑے آدمی دو ملکوں میں ہوئے۔ہٹلر اور مسولینی دونوں نے بے شک ترقیات حاصل کیں لیکن دونوں کا انجام شکست ہؤا۔مسلمانوں میں سے جس نے یکدم بڑی حکومت حاصل کی وہ تیمور تھا۔اس کی بھی یہی حالت تھی۔وہ بیشک دُنیا کے کناروں تک گیا لیکن وہ اپنے اس مقصد کو کہ ساری دُنیا فتح رلے پورا نہ کر سکا۔مثلاً چین کو تابع کرنا چاہتا تھا لیکن تابع نہ کر سکا اور جب وہ مرنے لگا تو اُس نے کہا میرے سامنے انسانوں کی ہڈیوں کے ڈھیر ہیں جو مجھے ملامت کر رہے ہیں۔پس صرف رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی آدم سے لے کر اب تک ایسے گزرے ہیں جنہوں نے فردِ واحد سے ترقی کی۔تھوڑے سے عرصہ میں ہی سارے عرب کو تابع فرمان کر لیا اور آپ کی وفات کے بعد آپ کے ایک خلیفہ نے ایک بہت بڑی حکومت کو توڑ دیا اور باقی علاقے آپ کے دوسرے خلیفہ نے فتح کر لئے۔یہ تغیر جو واقع ہوا خدائی تھا کسی انسان کا کام نہیں تھا۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو آپ کے بعد حضرت ابو بکر خلیفہ ہوئے۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر مکہ میں پہنچی تو ایک مجلس میں حضرت ابو بکر کے والد ابو قحافہ بھی بیٹھے تھے جب پیغامبر نے کہا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم