انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 557

انوار العلوم جلد 23 557 مسئلہ خلافت عزت حاصل نہیں تھی۔لوگ صرف مجاور سمجھ کر ادب کیا کرتے تھے اور جب وہ غیر قوموں میں جاتے تھے تو وہ بھی ان کی مجاور یا زیادہ سے زیادہ تاجر سمجھ کر عزت کرتی تھیں۔وہ انہیں کوئی حکومت قرار نہیں دیتی تھیں اور پھر ان کی حیثیت اتنی کم سمجھی جاتی تھی کہ دوسری حکومتیں ان سے جبراً ٹیکس وصول کرنا جائز سمجھتی تھیں۔جیسے یمن کے بادشاہ نے مکہ پر حملہ کیا جس کا قرآن کریم نے اصحاب الفیل کے نام سے ذکر کیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو تیرہ سال تک آپ مکہ میں رہے۔اس عرصہ میں چند سو آدمی آپ پر ایمان لائے۔تیرہ سال کے بعد آپ نے ہجرت کی اور ہجرت کے آٹھویں سال سارا عرب ایک نظام کے ماتحت آ گیا اور اس کے بعد اُسے ایک ایسی طاقت اور قوت حاصل ہو گئی کہ اس سے بڑی بڑی حکومتیں ڈرنے لگیں۔اس وقت دنیا حکومت کے لحاظ سے دو بڑے حصوں میں منقسم تھی۔اول۔رومی سلطنت۔دوم۔ایرانی سلطنت۔رومی سلطنت کے ماتحت مشرقی یورپ ، ترکی ، ایسے سینیا، یونان، مصر، شام اور اناطولیہ تھا اور ایرانی سلطنت کے ماتحت عراق، ایران، رشین ٹری ٹوری (TERRITORY) کے بہت سے علاقے، افغانستان، ہندوستان کے بعض علاقے اور چین کے بعض علاقے تھے۔اُس وقت یہی دو بڑی حکومتیں تھیں۔ان کے سامنے عرب کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی لیکن ہجرت کے آٹھویں سال بعد سارا عرب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہو گیا۔اس کے بعد جب سرحدوں پر عیسائی قبائل نے شرارت کی تو پہلے آپ خود وہاں تشریف لے گئے۔اس کی وجہ سے کچھ دیر کے لئے فتنہ ٹل گیا لیکن تھوڑے عرصہ بعد قبائل نے پھر شرارت شروع کی تو آپ نے ان کی سرکوبی کے لئے لشکر بھجوایا۔اس لشکر نے بہت سے قبائل کو سرزنش کی اور بہتوں کو معاہدہ سے تابع کیا۔پھر آپ کی وفات کے بعد اڑھائی سال کے عرصہ میں سارا عرب اسلامی حکومت کے ماتحت آگیا بلکہ یہ حکومت عرب سے نکل کر دوسرے علاقوں میں بھی پھیلنی شروع ہوئی۔فتح مکہ کے پانچ سال کے بعد ایرانی حکومت پر حملہ ہو گیا تھا اور اس کے بعض علاقوں پر قبضہ بھی کر لیا گیا تھا اور چند سالوں میں رومی سلطنت اور دوسری سب