انوارالعلوم (جلد 23) — Page 529
انوار العلوم جلد 23 529 حقیقی اسلام لیکن مسلمانوں کا یہ عقیدہ نہیں۔بے شک قرآن کریم میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ عیلہ وسلم کی بعثت کی خبر پرانے انبیاء سے ملتی چلی آئی ہے مگر یہ اجمالی خبر ہوتی ہے کہ ایک نبی آئے گا۔یہ نہیں ہوتا کہ خبر دینے والا آنے والے نبی کی نبوت پر بھی ایمان لے آتا ہو۔مگر قرآن کریم نے اُن تمام قسم کے انبیاء اور اُن کی جماعتوں کو مسلم قراد دیا ہے۔پس معلوم ہوا کہ مسلم کی دو قسمیں ہیں۔ایک اُس شخص کے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل ہے اور دوسرے لفظ مسلم کے جو معنے ہیں اُن معنوں کا جس شخص پر اطلاق ہو گا وہ قرآنی اصطلاح میں مسلم قرار پائے گا۔مسلم کے معنے ہیں مطیع ، فرمانبردار اور خدا تعالیٰ کے حکموں کو ماننے والا اب چاہے وہ اس تعلیم کو مانے جو مسیح پر نازل ہوئی تھی چاہے وہ اس تعلیم کو مانے جو داوڈ پر نازل ہوئی تھی اور چاہے وہ اس تعلیم کو مانے جو ابراہیم پر نازل ہوئی تھی۔وہ مسلم قرار پائے گا ان معنوں میں کہ وہ خدائی احکام کا کامل فرمانبردار ہے۔پس نوح کے زمانے میں اس کے یہ معنے تھے کہ خدا کا کلام جو نوح پر نازل ہوا اُس کی جس شخص نے اتباع اور فرمانبر داری کی وہ مسلم ہے۔اور ابراہیم کے زمانہ میں اس کے یہ معنے تھے کہ جو شخص ابراہیم کے احکام کو مانتا ہے وہ مسلم ہے اور موسیٰ اور عیسی کے زمانہ میں اس کے یہ معنے تھے کہ جو شخص موسی اور عیسی کے احکام کو تسلیم کرتا ہے وہ مسلم ہے۔لیکن اس زمانہ میں ایک تو مسلم نام ہو گا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے کی وجہ سے۔گو ہو سکتا ہے کہ بعض لوگوں کے اندر اسلام کی حقیقت نہ پائی جاتی ہو جیسے بعض لوگوں کا نام حاتم خان رکھ دیا جاتا ہے لیکن وہ ہوتے بخیل ہیں۔یا عبد الرحمن نام رکھ دیا جاتا ہے لیکن وہ ہوتے شیطان کے غلام ہیں۔اور ایک مسلم نام ہو گا اُس کی حقیقت کے لحاظ سے۔یعنی ایک تو نام کا اسلام ہو گا جیسے بعض لوگ اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں، بعض یہودی کہتے ہیں اسی طرح ہم اپنے آپ کو مسلم کہتے ہیں۔لیکن ایک وہ تعریف ہے جس کے ماتحت عیسی کے ماننے والے مسلم کہلائے یا موسی کے ماننے والے مسلم کہلائے یا ابراہیم کے ماننے والے مسلم کہلائے یعنی