انوارالعلوم (جلد 23) — Page 528
انوار العلوم جلد 23 528 حقیقی اسلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو لوگ تھے وہ بھی آپ پر ایمان لائے ہوئے تھے یہ صرف مسیحیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام سے پہلے جتنے انبیاء گزرے ہیں وہ بھی حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان رکھتے تھے۔مجھے ایک دفعہ ایک بڑے پادری سے جو ایک مذہبی کالج کا پر نسپل تھا بحث کرنے کا موقع ملا۔میں نے سوال کیا کہ تمہارے نزدیک کوئی شخص کفارہ پر ایمان لائے بغیر نجات حاصل نہیں کر سکتا اور کفارہ کا مسئلہ صرف اُنیس سو سال سے جاری ہوا ہے اس سے ہزاروں سال پہلے مذہبی روایات کے مطابق دنیا بس رہی تھی اور کروڑوں بلکہ اربوں سال پہلے سائنس کی تحقیق کے مطابق بس رہی تھی اتنے سال تک دنیا نے کس سے نجات حاصل کی؟ یا تو تم یہ کہو کہ انہوں نے نجات حاصل نہیں کی اس صورت میں آدم علیہ السلام بھی اور نوح علیہ السلام بھی اور ابراہیم علیہ السلام بھی اور زکریا علیہ السلام بھی اور حز قیل" بھی جن کا بائبل میں ذکر آتا ہے سب کے متعلق یہی سمجھا جائے گا کہ وہ نعوذ باللہ نجات یافتہ نہیں تھے۔اور اگر وہ نجات یافتہ تھے تو ماننا پڑے گا کہ نجات بغیر مسیح کے بھی حاصل ہو سکتی ہے۔اس پر اُس نے تعجب سے کہا کہ کون کہتا ہے ہ صحیح پر ایمان لائے بغیر نجات پاگئے وہ سارے کے سارے مسیح پر ایمان رکھتے تھے۔میں نے جواب دیا کہ بائبل کی وہ کون سی آیات ہیں جن سے یہ ثابت ہو تا ہے صرف قیاس سے تو ایسی بات نہیں کہی جاسکتی۔وہ میں نے کہا کہ اگر اُن کا ایمان لانا ضروری تھا تو مسیح کو آدم کے زمانہ میں کیوں نہ بھیجا گیا اور اتنے لمبے انتظار کے بعد کیوں مبعوث کیا گیا؟ اُس نے کہا کہ چونکہ دنیا کے دماغ ابھی اتنے ترقی یافتہ نہیں تھے کہ وہ کفارہ کا مسئلہ سمجھ سکیں اس لئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو ابتداء میں نہ بھیجا بلکہ اُس وقت بھیجا جب وہ اس مسئلہ کو سمجھنے کے قابل ہو گئے۔میں نے کہا کہ جب وہ اس مسئلہ کو سمجھ ہی نہیں سکتے تھے تو انہوں نے نجات کس طرح پائی؟ اور اگر وہ سمجھ سکتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح کو پہلے کیوں نہ بھیجا؟ غرض مسیحیوں کا تو یہ عقیدہ ہے کہ پہلے انبیاء بھی حضرت مسیح پر ایمان رکھتے تھے