انوارالعلوم (جلد 23) — Page 527
انوار العلوم جلد 23 527 حقیقی اسلام بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّىٰ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ حقیقی اسلام (فرمودہ 29 اگست 1953ء بمقام بیج لگثری( BEACH LUXURY) ہوٹل کراچی) (غیر مطبوعه) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- اسلام کا لفظ قرآن کریم میں صرف اُس دین کے لئے نہیں بولا گیا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا بلکہ آپ سے پہلے جو ادیان گزرے ہیں اُن کے اتباع کو بھی یا اُن کے نیچے اتباع کو بھی خدا تعالیٰ نے مسلم کے نام سے یاد فرمایا ہے اور یہ اتباع کسی قلیل زمانہ کے لئے نہیں تھے بلکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں جو لوگ آپ پر ایمان لائے یا بعد میں آنے والے انبیاء پر ایمان لاتے رہے اُن کے متعلق بھی قرآن کریم یہی فیصلہ فرماتا ہے کہ وہ مسلم تھے۔قرآن کریم کے اس محاورہ سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جہاں تک ایک قومی اصطلاح کا سوال ہے اسلام کا لفظ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہے، قرآن کریم پر ایمان لاتا ہے ، حشر و نشر پر ایمان لاتا ہے ، تقدیر پر ایمان لاتا ہے ایسا انسان مسلم ہے۔لیکن آگے ایک فرق پیدا ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان تو آپ کی بعثت کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔جو لوگ آپ سے پہلے گزرے ہیں اور جو آپ کا نام تک بھی نہیں جانتے تھے وہ مسلم کس طرح کہلائے ؟ ہمارا عقیدہ مسیحیوں کی طرح یہ نہیں ہے کہ