انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 518 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 518

انوار العلوم جلد 23 518 تحقیقاتی کمیشن کے سات سوالوں کے جوابات کسی احمدی لڑکی اور غیر احمدی مرد کا نکاح ہو جائے تو اُسے کالعدم قرار نہیں دیا جاتا اور اولاد کو جائز سمجھا جاتا ہے۔اس تعلق میں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ہماری طرف سے ممانعت کی ابتدا نہیں ہوئی بلکہ اس میں بھی غیر احمدی علماء نے ہی سبقت کی اور اس میں شدت اختیار کی۔(الف) چنانچہ سب سے پہلے مولوی محمد عبد اللہ صاحب اور مولوی عبد العزیز صاحب مشہور مفتیانِ لدھیانہ نے یہ فتویٰ دیا: خلاصہ مطلب ہماری تحریرات قدیمہ اور جدیدہ کا یہی ہے کہ یہ شخص مرتد ہے اور اہل اسلام کو ایسے شخص سے ارتباط رکھنا حرام ہے۔۔۔۔۔۔اسی طرح جو لوگ اس پر عقیدہ رکھتے ہیں وہ بھی کافر ہیں۔41 (ب) جب عقیدت فرقہ قادیانی بسبب کفر و الحاد و زندقہ و ارتداد ہوا تو بمجرد اس عقیدت مندی ان کی بیویاں ان کے نکاحوں سے باہر ہو گئیں اور جب تک وہ تو بہ نصوح نہ کریں تب تک ان کی اولادیں سب حرامی ہوں گی“۔42 علاوہ ازیں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ دراصل غیر احمدیوں سے ممانعت نکاح کی بناء احمدیت سے بغض اور عداوت رکھنے والوں کے اثر سے لڑکیوں کو بچانا تھا کیونکہ تجربے نے یہ بتایا ہے کہ وہ احمدی لڑکیاں جو غیر احمدیوں میں بیاہی جاتی ہیں ان کو احمدیوں سے ملنے نہیں دیا جاتا، احمدی تحریکوں میں چندے دینے سے روکا جاتا ہے اور بعض گھرانے تو اتنے جاہل ہوتے ہیں کہ لڑکی پر اس وجہ سے سختی کرتے ہیں کہ وہ نماز کیوں پڑھتی ہے ؟ وہ کہتے ہیں کہ وہ اس طرح ہم پر جادو کرتی ہے۔حقیقتا نکاح کا مسئلہ ایک سوشل قسم کا مسئلہ ہے ایسے مسائل میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ لڑکی کو کہاں آرام رہے گا اور کہاں اسے مذہبی امور میں ضمیر کی آزادی ہو گی اور اس پر ناجائز دباؤ تو نہیں ڈالا جائے گا جس سے اس کے عقائد دینیہ خطرے میں پڑ جائیں لیکن باوجو د مخالفت کے اگر کوئی احمدی اپنی لڑکی کا نکاح غیر احمدی مرد سے کر دے تو اس کے نکاح کو کالعدم قرار نہیں دیا جاتا۔