انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 519 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 519

انوار العلوم جلد 23 519 تحقیقاتی کمیشن کے سات سوالوں کے جوابات پھر یہ عرض کر دینا بھی ضروری ہے کہ رشتہ ناطہ کے مسئلہ میں بھی ہماری جماعت اپنے طرزِ عمل میں منفرد نہیں بلکہ مسلمانوں کے دوسرے فرقے اور جماعتیں بھی اس طرزِ عمل کو اختیار کئے ہوئے ہیں بلکہ بعض تو آپس میں ایسی شدت اختیار کر چکے ہیں وہ دوسرے کے آدمی سے ازدواجی تعلق کو ”حرام“ اور اولاد کو ناجائز قرار دیتے ہیں۔چنانچہ اہلسنت و الجماعت نے شیعہ اثنا عشریہ سے مناکحت کو حرام قرار دیا ہے۔(الف) علماء دیوبند اور علماء اہلحدیث کا فتویٰ ملاحظہ ہو: دستی لڑکی شیعہ کے گھر پہنچتے ہی طرح طرح کے ظلم و ستم کا نشانہ بن کر مجبور ہو جاتی ہے کہ شیعہ ہو جائے۔یہ خرابی علاوہ اس ار تکاب حرام کے ہے جو ناجائز نکاح کے سبب ہوتا ہے۔۔۔۔۔لہذا شیعوں کے ساتھ مناکحت قطعاًناجائز ، ان کا ذبیحہ حرام، ان کا چندہ مسجد میں لینا ناروا ہے، ان کا جنازہ پڑھنا یا ان کو جنازہ میں شریک کرنا جائز نہیں“۔43 (ب) نیز بریلوی فرقہ جس کے ساتھ مولانا ابو الحسنات صاحب صدر مجلس عمل کا تعلق ہے کے نزدیک بھی شیعہ سے مناکحت ”زنا سے مترادف ہے۔چنانچہ ردّ الرفضہ میں لکھا ہے: بالجملہ ان رافضیوں تبرائیوں کے باب میں حکم یقینی قطعی اجماعی یہ ہے کہ وہ علی العموم کفار مرتدین ہیں ان کے ہاتھ ذبیحہ مردار ہے ان کے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خالص زنا ہے۔۔۔۔۔اگر مر دستی اور عورت ان خبیثوں کی ہو جب بھی ہر گز نکاح نہ ہو گا۔محض ”زنا“ ہو گا اولاد’ولد الزنا“ ہو گی“۔44 ہم نہایت ادب سے عرض کرتے ہیں کہ اس فتویٰ میں جو کہ حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب بانی فرقہ بریلویہ کا ہے، شیعہ حضرات کو نہ صرف کافر قرار دیا گیا ہے بلکہ