انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 513

انوار العلوم جلد 23 513 تحقیقاتی کمیشن کے سات سوالوں کے جوابات بہر حال وہ ذرائع جو اللہ تعالیٰ اس وحی کے بھیجنے کے لئے استعمال کرتا تھاوہ ان ذرائع سے نیچے ہوں گے جو قرآن کریم کے لئے استعمال کئے جاتے تھے لیکن یہ محض ایک عقلی بات ہے واقعاتی بات نہیں جس کے متعلق ہم شہادت دے سکیں۔بعض قرآنی آیات اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ پر قیاس کر کے یہ جواب دے رہے ہیں۔حقیقت کو پوری طرح معلوم کرنے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں البتہ ہم ضرور تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ پر وحی الہی ہوتی تھی اور قرآن کریم سے ثابت ہے کہ وحی الہی نہ صرف ماموروں بلکہ غیر ماموروں کو بھی ہوتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی طرف وحی نازل ہونے کا ذکر آیا ہے 29 اور حضرت مریم علیہ السلام کے متعلق بھی آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ملائکہ ان کے پاس خد اتعالیٰ کا کلام لے کر آئے۔30 پس وحی اور فرشتوں کا اُترنا مامور من اللہ کے علاوہ غیر ماموروں کے لئے بھی ثابت ہے۔ہندوستان میں اسلام کا جھنڈا گاڑنے والے اور اس کی بنیاد قائم کرنے والے حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں د میدم روح القدس اندر معینی می دمد من نے گویم مگر من عیسی ثانی شدم 31 یہ عرض کرنا مناسب ہے کہ مسلمانوں کی اصطلاح میں ”روح القدس “ حضرت جبرئیل کا نام ہے۔32 ان کے علاوہ اسلام میں سینکڑوں اولیاء اللہ مثلاً سیّد عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت سید احمد صاحب سرہندی مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ وغیر ہم علی قدرِ مراتب ملہم میں اللہ تھے۔وحی تین طریقوں سے ہوتی ہے ان کا ذکر قرآن کریم کی آیت مَا كَانَ لِبَشَرِ أَنْ تكَلمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيَا أَوْ مِنْ وَرَائِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوْحِيَ بِاِذْنِهِ مَا يَشَاءُ - 33 میں بیان ہوا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء و اولیاء پر انہی طریقوں سے وحی