انوارالعلوم (جلد 23) — Page 442
انوار العلوم جلد 23 442 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ 66 کا حوالہ “احرار کے اخبار ”مجاہد “ 4 مارچ 1936 ء سے شیعوں کے امام حضرت امام جعفر صادق اور اہل سنت کے امام حضرت امام ابو حنیفہ کے حوالوں سے ثابت کر چکے ہیں کہ لفظ "ولد الحرام“ سے مراد محض کج فطرت اور شریر لوگ ہوتے ہیں۔اس سے لغوی معنی مراد نہیں ہوتے۔(ج) مولوی عبدالحق غزنوی نے انوار الاسلام کی اشاعت سے قبل حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو نہایت گندی اور غلیظ گالیاں دی تھیں۔411 پس حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے یہ الفاظ بطور جواب کے تھے۔(1) انوار الاسلام 1898ء میں شائع ہوئی تھی۔مولوی عبدالحق غزنوی چالیس سال سے فوت ہو چکے ہیں۔پس اس حوالہ کی بناء پر عام مسلمانوں کو اشتعال کیونکر آسکتا تھا۔اگر مجلس احرار کے لیکچرار اور اخبار نے اسے پیش کر کے اور مسلمانوں کو اس کا مخاطب قرار دے کر اشتعال پیدا کیا اور پھیلایا تو اس سے فساد کی ذمہ داری احرار اور اُن کے ہمنواؤں پر ثابت ہوتی ہے یا کسی اور پر۔پھر یہ بھی یاد رکھنے والی بات ہے کہ مرزا صاحب نے تو کسی زمانہ میں کوئی لفظ جوابی طور پر کہا تھا مگر یہ لوگ آج تک برابر اُن الفاظ کو دُہراتے چلے جارہے ہیں۔حالانکہ وہ الفاظ جماعت احمدیہ کی طرف سے پچھلے پچاس سال سے دُہرائے نہیں گئے۔ظالم وہ ہوتا ہے جو حملہ کو لمبالئے چلا جاتا ہے یا ظالم وہ ہوتا ہے جو جواب دیتا ہے اور پھر چپ ہو جاتا ہے ؟ آخر ان الفاظ کے بعد وہ کون سا ذریعہ تھا جس سے مخالفوں کو جواب دیا جاسکتا اور پھر اس جواب کے بعد گزشتہ پچاس برس کے لمبے زمانے میں کسی ذمہ دار احمدی نے اس قسم کے الفاظ غیروں کے متعلق کبھی استعمال نہیں کئے۔ایک اور اعتراض اور اُس کا جواب کہا جاتا ہے کہ موجودہ امام جماعتِ احمدیہ نے ان کو ابو جہل کہا ہے۔مگر یہ بالکل غلط ہے۔انہوں نے ان کو ہر گز ابو جہل نہیں کہا۔امام جماعت احمد یہ نے تو ابو جہل کے ایک فعل کو بطور مثال کے پیش کیا ہے اور وہ بھی آفاق کے ایڈیٹر کا جواب دینے