انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 367

انوار العلوم جلد 23 367 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ سوال نمبر 5 متعلق مسائل نماز و جنازه ورشته ناطه پانچویں یہ کہا گیا ہے کہ احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ اس بناء پر اور غیر احمدیوں کو جوش اور اشتعال اس وجہ سے ہے کہ احمدی جماعت اپنے مخالفوں کے پیچھے نمازیں نہیں پڑھتی، ان کے جنازے نہیں پڑھتی اور اُن کو لڑکیاں دینے سے اجتناب کرتی ہے۔یہ باتیں اوّل تو خالص مذہبی نہیں۔خوجہ قوم اور بوہرہ قوم کے لوگ اپنی لڑکیاں دوسری قوم کو نہیں دیتے ، مہدوی لوگ اپنی لڑکیاں دوسری قوم کو نہیں دیتے۔بلوچستان کا بڑا حصہ مہدوی ہے۔وہ کسی صورت میں بھی اپنی لڑکیاں غیروں کو نہیں دیتا۔کراچی کی تجارت خوجہ قوم اور بوہرہ قوم کے پاس ہے وہ کبھی اپنی لڑکیاں غیروں کو نہیں دیتے لیکن باوجود اس کے علماء نے کبھی ان لوگوں کے خلاف شور نہیں مچایا بلکہ ان لوگوں کی دعوتیں اُڑاتے ہیں۔حیدر آباد کے رہنے والے مسلمانوں کی طرف سے جو ریاستوں کی آزادی کی تحریک اُٹھی تھی مہدوی قوم کے لیڈر نواب بہادر یار جنگ اس کے صدر تھے اور قائد اعظم نے اُن کو اپنا نائب بنارکھا تھا مگر باوجو د اس کے ان علماء نے کبھی آواز نہیں اُٹھائی کہ یہ تو اپنی لڑکیاں دوسروں کو نہیں دیتے۔یہ تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سید محمد صاحب جونپوری کو خدا تعالیٰ کا رسول مانتے ہیں۔یہ تو اپنے عقیدہ کی رُو سے دوسروں کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں سمجھتے اُن کو لیڈر کیوں بنایا گیا ہے اور جیسا کہ مہدوی لٹریچر سے ظاہر ہے بلوچستانی مہدویوں میں سے بعض نے تو اپنا نعرہ یہاں تک پہنچا دیا ہے کہ ہم ایسے سمندر میں داخل ہو گئے ہیں جس کے کنارے پر نبی بیٹھا کرتے تھے اور اُن لوگوں میں تین نمازیں پڑھنے کا حکم ہے، زائد معاف ہیں۔عجیب عجیب قسم کے اُن میں ذکر ہیں اور بعض تو اُن میں سے یہاں تک کہتے ہیں کہ لِوَائِی أَرْفَعُ مِنْ لِوَاءِ مُحَمَّدٍ 293 میر ا جھنڈا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے سے اُونچا ہے۔اور وہ لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ایک لاکھ کے قریب تو بلوچستان میں ہیں۔اس