انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 355

-------------------------------------------____-_-_- انوار العلوم جلد 23 وہ 355 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کے ایک حد تک پائے جانے کے بعد انسان مسلمان کے نام سے پکارے جانے کا مستحق سمجھا جاسکتا ہے لیکن جب وہ اس مقام سے بھی نیچے گر جاتا ہے تو گو وہ مسلمان کہلا سکتا ہے مگر کامل مسلم اُسے نہیں سمجھا جاسکتا۔یہ تعریف ہے جو ہم گفر و اسلام کی کرتے ہیں اور پھر اس تعریف کی بناء پر ہم کبھی نہیں کہتے کہ ہر کافر دائمی جہنمی 268 " ہوتا ہے۔آگے چل کر آپ فرماتے ہیں:۔اُن کے کفر اور ہمارے گفر میں بہت بڑا فرق ہے۔اُن کا گفر تو ایسا ہے جیسے سُرمے والا سُرمہ پیتا ہے۔وہ بھی جب کسی کو کافر کہتے ہیں تو اُس کا مطلب یہ ہوا کرتا ہے اُسے پیس کر رکھ دیں۔کہتے ہیں کہ ہ جہنمی ہے اور ابدی دوزخ میں پڑے گا۔۔۔۔۔پس ہماری گفر کی اصطلاح ہی اور ہے اور اُن کے کفر کی اصطلاح اور۔ہمارا کفر تو اُن کے کفر کے مقابلہ میں ایسا ہی ہے جیسے سورج کے مقابل پر ذرہ ہو۔پس اس پر انہیں غصہ کیوں آتا ہے۔آجکل بڑے زور سے کہا جاتا ہے کہ احمدی ہمیں کافر کہتے ہیں۔اگر وہ بچے ہیں تو ثابت کریں کہ پہلے ہم نے انہیں کافر کہا ہو۔اگر وہ ذرا بھی غور کریں گے تو انہیں معلوم ہو گا کہ پہلے اُنہوں نے ہی ہمیں کافر کہا ہم نے کافر نہیں کہا۔گو اس رنگ میں بھی اُن کے کفر اور ہمارے کُفر میں بہت بڑا فرق ہے لیکن بہر حال اُن کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ دیکھیں۔پہلے اُنہوں نے ہمیں کافر کہا اور ہم پر گفر کے فتوے لگائے یا ہم نے اُن کو کافر کہا؟ “۔69 262 اس حوالہ سے صاف ظاہر ہے کہ موجودہ امام جماعت احمدیہ کے نزدیک بھی گفر دو قسم کا ہے۔ایک کفر کے باوجود انسان مسلمان کہلاتا ہے اور وہ ملتِ اسلامیہ میں شامل ہوتا ہے اور دوسرے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم نے جو کچھ کہا جواب