انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 349

انوار العلوم جلد 23 349 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ قرار دیا گیا ہے۔حالانکہ متعد د مواقع پر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ کہنے سے انسان ملت اسلامی میں داخل ہو جاتا ہے اور کوئی اور گناہ اُسے ملتِ اسلامیہ سے خارج نہیں کرتا۔ان حدیثوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہی ماننا پڑتا ہے کہ جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کلمہ گو کو خارج از اسلام قرار دیا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ایمان کے بعض مدارج سے یہ شخص محروم ہے اور جب کسی شخص کو ملت اسلامیہ میں داخل قرار دیا ہے تو اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اُس کے اندر ایمان کے تمام مدارج کامل طور پر پائے جاتے ہیں بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ اسلامک باڈی پولٹکس (ISLAMIC BODY POLITICS) کا ممبر ہو گیا ہے اور اگر ہم نے کسی شخص کو مؤمن یا کافر کہا ہے تو انہی معنوں کی رُو سے کہا ہے۔حضرت امام ابو حنیفہ کا عقیدہ حضرت ابو حنیفہ بھی اسی عقیدہ پر قائم تھے جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔چنانچہ کتاب معین الحکام مصنفہ ابوالحسن طرابلسی میں جو جماعت اسلامی کی طرف سے پیش کی گئی ہے اور جس کے حاشیہ والی کتاب سے انہوں نے سندلی ہے اس کے صفحہ 202 پر امام طحاوی، حضرت امام ابو حنیفہ اور ان کے ساتھیوں سے روایت کرتے ہیں کہ لَا يَخْرُجُ الرَّجُلُ مِنَ الْإِيْمَانِ إِلَّا جُعُود مَا أَدْخَلَهُ فِيهِ - 254 یعنی حضرت امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کا یہ مذہب تھا کہ ایمان سے کوئی چیز کسی کو خارج نہیں کرتی سوائے اُس چیز کے دیدہ دانستہ انکار کے جس نے اُس کو اسلام میں داخل کیا تھا۔یعنی کلمہ شہادت، مطلب یہ ہے کہ جب تک کلمہ شہادت کا کوئی شخص دیدہ دانستہ انکار نہ کرے اُس وقت تک کوئی چیز اس کو اسلام سے خارج نہیں کرتی۔پھر امام طحاوی کا جو حنفیوں میں مجتہد المذہب کی حیثیت رکھتے ہیں یہ مذہب بیان کیا گیا ہے کہ ایسی صورت میں نہ تو ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس قسم کا مرتد ہو گیا ہے کہ اس پر مرتدین کے احکام جاری کر دیئے جائیں اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس پر ایسے احکام جاری نہیں ہو سکتے کیونکہ کلمہ پڑھنے سے اس کا اسلام ثابت ہو چکا تھا۔اب کسی شک کی وجہ سے اس کو اسلام سے نہیں نکالا جاسکتا کیونکہ اسلام ہمیشہ غالب