انوارالعلوم (جلد 23) — Page 348
انوار العلوم جلد 23 348 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اور دوسرا کفر ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتا۔اسی طرح امام ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ وَحَقِيقَةُ الْأَمْرِ انْ مِنْ لَمْ يَكُنْ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ حَقًّا يُقَالُ فِيهِ أَنَّهُ مُسْلِمٌ وَ مَعَهُ اِيْمَانُ يَمْنَعُهُ الْخُلُودُ فِي النَّارِ۔وَهَذَا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ بَيْنَ اَهْلِ السُّنَّةِ یعنی ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک شخص پورا مومن نہ ہو مگر پھر بھی ہم یہی کہیں گے کہ وہ مسلم ہے اور تمام اہل سنت اس پر متفق ہیں۔لیکن هَلْ يُطْلَقُ عَلَيْهِ اِسْمُ الْإِيْمَانِ هَذَا هُوَالَّذِي تَنَازَعُوْا فِيْهِ فَقِيْلَ يُقَالُ مُسْلِمٌ وَلَا يُقَالُ مُؤْمِنٌ - 252 لیکن یہ سوال کہ کیا اس پر لفظ ایمان بھی بولا جائے گا یا نہیں اور اسے ہم مومن بھی کہیں گے یا نہیں ؟ یہ بات ایسی ہے جس میں علماء میں اختلاف ہوتے رہے۔چنانچہ بعض نے کہا ہے کہ اسے مسلم تو کہیں گے مگر مومن نہیں کہیں گے۔” ملت اسلامیہ “ میں شامل ہونے ان تمام حوالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ملت اسلامیہ میں شامل ہونے کے لئے صرف کلمہ ضروری ہے کے لئے صرف گلے کا پڑھنا کافی ہے۔باقی کوئی امر ایسا نہیں ہے کہ جو ملتِ اسلامی میں شمولیت کے لئے ضروری ہو۔اگر باقی ضروری امور کا کوئی انکار کرتا ہے تو ہم اُسے غیر مؤمن کہہ لیں گے ، ناقص الایمان کہہ لیں گے لیکن یہ نہیں کہیں گے کہ ان اُمور کی وجہ سے وہ ملت اسلامیہ سے خارج ہو گیا ہے۔ہاں چونکہ ایک اسلام ایمان سے بھی اوپر ہے اس کے لحاظ سے ایک شخص کو جس میں کوئی بڑا دینی نقص پایا جائے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ شخص اسلام سے خارج ہو گیا ہے مگر اس سے مراد ملت اسلامیہ سے خارج ہونا نہیں ہو گا۔اِس سے صرف یہ مراد ہو گا کہ وہ ایمان کے بڑے درجوں سے محروم ہے۔خود رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَنْ مَشَى مَعَ ظَالِمٍ لِيُقَوِّيَهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ ظَالِمٌ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْإِسْلَامِ “۔253 جو شخص ظالم کی جانتے بوجھتے ہوئے مدد کی کوشش کرے اور اُسے علم ہو کہ وہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔اس حدیث میں ایسے شخص کو جو کسی ظالم کی مدد کرتا ہے خارج عَنِ الْإِسْلَام