انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 304

انوار العلوم جلد 23 304 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ ترجمہ : ”میں کہتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ اگر صاحبزادہ ابراہیم زندہ رہتے اور نبی ہو جاتے اور اسی طرح اگر حضرت عمر بھی نبی ہو جاتے تو دونوں آنحضرت صلعم کے تابعین میں سے ہوتے۔جس طرح عیسی خضر" اور الیاس ( کے بارے میں ہمارا عقیدہ ہے۔) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور سچا نبی ہو تا آیت خاتم النبیین کے خلاف نہیں ہے۔کیونکہ خاتم النبیین کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو آپ کی ملت کو منسوخ کرے اور آپ کی اُمت میں سے نہ ہو۔اسی عقیدہ کی تقویت اس حدیث سے ہوتی ہے کہ اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو میری اتباع کے بغیر انہیں کوئی چارہ نہ ہوتا۔حضرت ملا علی قاری کا یہ قول ہم خاص طور پر عدالت کی توجہ کے لئے پیش کرتے ہیں کیونکہ اس میں خاتم النبیین اور عقیدہ ختم نبوت کے بارے میں بعینہ وہی بات کہی گئی ہے جو اس وقت جماعت احمد یہ کہتی ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند حضرت ابراہیم آیت خاتم النبیین کے نزول (5ھ ) کے قریب تین سال بعد پیدا ہوئے اور نو ہجری میں (آیت خاتم النبیین کے نزول کے چار سال بعد ) فوت ہوئے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی وفات کے موقع پر فرمایا کہ اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو سچا نبی ہوتا۔164 حضرت مُلا علی قاری مندرجہ بالا اقتباس میں فرماتے ہیں کہ آیت خاتم النبیین کے نزول کے بعد پید اہونے والے صاحبزادہ ابراہیم اگر فی الواقع نبی ہو جاتے تب بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے میں کوئی فرق نہ آتا اور نہ ہی آپ کی خاتمیت کے منافی ہوتا کیونکہ حضرت مُلا علی قاری کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ و کے بعد کسی متبع یا امتی کا نبی ہونا آیت خاتم النبیین کے مخالف نہیں۔اُن کے نزدیک خاتم النبیین کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد