انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 303

انوار العلوم جلد 23 303 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اسی طرح وہ لکھتے ہیں کہ نبوت مخلوقات میں قیامت تک جاری ہے گو کہ شریعت کے لحاظ سے وہ ختم ہو چکی ہے اور شریعت نبوت کے حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔اور یہ ناممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کا الہام دُنیا میں سے بند ہو جاوے کیونکہ اگر وہ بند ہو جاوے تو دنیا کی رُوحانی غذا ختم ہو جاتی ہے اور رُوحانی وجودوں کے زندہ رہنے کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہتا۔158 پھر وہ فرماتے ہیں نبوت عامہ یعنی جو شریعت سے خالی ہے وہ اِس اُمت کے بڑے لوگوں میں قیامت تک جاری ہے۔159 پھر وہ لکھتے ہیں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ رسالت اور نبوت بند 160 ہو گئی ہے اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا نبی نہیں آئے گا۔پس اس کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کرلے۔پھر وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم فرما کر نبوت عامہ اُن میں باقی رکھی یعنی وہ نبوت جس کے ساتھ شریعت نہیں ہوتی۔161 سید عبد الکریم جیلانی جو قدوۃ الاولیاء کہلاتے ہیں لکھتے ہیں نبوت تشریعی کا حکم رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بند ہو گیا اور اسی وجہ سے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین کہلائے کیونکہ وہ کامل تعلیم لے کر آئے تھے۔162 حضرت مُلا علی قاری ” جو گیارھویں صدی ہجری کے شروع میں گزرے ہیں اور جو حنفیوں کے عقائد کے مدون ہیں یعنی جنہوں نے اُن کے عقائد کو ایڈٹ کیا ہے) وہ اپنی کتاب ” موضوعات کبیر میں تحریر فرماتے ہیں: قُلْتُ وَ مَعَ هَذَا لَوْعَاشَ إِبْرَاهِيْمُ وَ صَارَنَبِيًّا وَ كَذَا لَوْ صَارَ عُمَرُ نَبِيًّا لَكَانَا مِنْ اَتْبَاعِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَعِيْسَى وَ الْحَضْرَوَ الْيَاسَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ فَلَا يُنَاقِضُ قَوْلَهُ تَعَالَى خَاتَمُ النَّبِيِّنَ إِذَا الْمَعْنى أَنَّهُ لَا يَأْتِي نَبِيٌّ بَعْدَهُ يُنْسِخُ مِلَّتَهُ وَ لَمْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِهِ فَيُقَوَىٰ حَدِيث لَوْ كَانَ مُوسى عليه السلام حَيًّا لَمَا وَسِعَهُ إِلَّا اتَّبَاعِي“ 163