انوارالعلوم (جلد 23) — Page 288
انوار العلوم جلد 23 288 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اسی طرح پر صفحہ 147 پر وہ مسیح کے متعلق لکھتے ہیں کہ :- امام سیوطی نے اپنی کتاب اعلام میں لکھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے مطابق حکم دیں گے۔اور اس پر اجماع ہے کہ مسیح اپنے احکام میں کسی رائج مذہب کا مقلد نہیں ہو گا بلکہ وہ تمام شریعت کے احکام قرآن سے اخذ کرے گا جس طرح رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اخذ کرتے تھے اور جبرئیل اُن پر وحی حقیقی لے کر نازل ہو گا“۔پھر وہ لکھتے ہیں کہ :- امام سیوطی نے اس کی تائید میں بڑے دلائل دئے ہیں اور جو اس کو ر ڈ کرتے ہیں، اُن کو انہوں نے غلطی پر قرار دیا ہے“۔21 غرض قرآن کریم اور احادیث کے حوالوں سے اور خداترس علماء کی گواہی سے یہ بات ثابت ہے کہ وحی الہی کا نزول اسلامی آئیڈیالوجی (IDEOLOGY) کا ایک حصہ ہے۔وحی الہی صرف شریعت میں محصور نہیں ہوتی بلکہ اس کے علاوہ بھی اس کی اغراض ہوتی ہیں۔جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا کہ مومنوں کو تسلی دینے اور ان کا خوف دُور کرنے اور خدا تعالیٰ کی محبت کے اظہار کے لئے بھی وحی آتی ہے اور حضرت شاہ ولی اللہ نے فرمایا کہ وحی الہی تقرب الہی کے اظہار کے لئے اور شریعت کے بار یک اسرار کو ظاہر کرنے کے لئے اولیاء اللہ پر نازل ہوتی رہتی ہے۔پس مذہب کی آئیڈیالوجی (IDEOLOGY) عموماً اور اسلام کی آئیڈیالوجی خصوصاً جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انسان اس لئے پیدا کیا گیا تھا کہ وہ خدا کا قرب حاصل کرے اور اُس کی معرفت تامہ اُس کو ملے اور اس چیز کا ذریعہ وحی الہی کو تجویز کیا گیا تھا اس بات کی تائید میں ہے کہ شریعت کے ختم ہو جانے کے بعد وحی کو آتے رہنا چاہئے اور جو شخص وحی الہی کو بند کرتا ہے وہ نہ صرف قرآن، حدیث اور اولیاء اسلام کی تردید کرتا ہے بلکہ وہ اسلامک آئیڈیالوجی پر حملہ کرتا ہے اور اُس امتیازی فرق کو مٹا دیتا ہے جو کہ خدائی مذہبوں