انوارالعلوم (جلد 23) — Page 200
انوار العلوم جلد 23 200 تعلق باللہ کے جسم کا ایک حصہ ہوتا ہے۔اس لئے اپنے جسم کو بچانے کا جو مادہ فطرت میں ہو تا ہے وہ ادھر منتقل ہو جاتا ہے اور ماں باپ اپنے بچہ سے محبت کرنے لگتے ہیں۔(3) ماں باپ کی محبت کی تیسری وجہ اپنائیت ہوتی ہے جس طرح وحدت جسمانی ایک طبعی محبت پیدا کرتی ہے اسی طرح تعلق کے لحاظ سے سے بھی ایک ہو جانے کا خیال محبت پیدا کر دیتا ہے۔تمہارا کوٹ پھٹ جائے تو تمہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی کیونکہ کوٹ کے ساتھ اپنایت کا تعلق نہیں ہوتا۔تم سمجھتے ہو کہ ایک کوٹ پھٹا تو دوسرا لے لیں گے لیکن جہاں تمہارا تعلق ہوتا ہے وہاں اس چیز کے ضائع ہونے سے تمہیں درد ہوتا ہے۔پس وحدت جسمانی کی طرح اپنائیت بھی محبت پیدا کرتی ہے۔خدا تعالیٰ نے اس دنیا کا سلسلہ ایسا بنایا ہے کہ ہر بچہ اپنے ماں باپ کے پاس رہتا ہے اور ماں باپ اُس بچہ کو کوئی غیر چیز نہیں بلکہ اپنی چیز سمجھتے ہیں اس لئے اُس سے محبت رکھتے ہیں۔گورنمنٹ لوگوں پر ٹیکس لگا سکتی ہے لیکن اگر گور نمنٹ یہ چاہے کہ وہ کسی کا بچہ لے لے تو وہ بچہ نہیں لے سکتی۔پس اپنایت کی انتہاء بھی محبت پیدا کرتی ہے۔98 (4) بقائے ذات کی خواہش بھی محبت پیدا کرتی ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان چاہتا ہے میں ہزار سال زندہ رہوں مگر ظاہر ہے کہ انسان اس دنیا میں ہمیشہ کے لئے زندہ نہیں رہ سکتا۔28 لیکن دوسری طرف بقائے ذات کی خواہش بھی ہر انسان میں پائی جاتی ہے جس کا ایک ہی ذریعہ ہوتا ہے کہ اُس کی اولاد اُس کے نام کو زندہ رکھتی ہے اور اس طرح بقائے ذات کی خواہش ایک رنگ میں پوری ہو جاتی ہے۔پس چونکہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ میں دنیا میں اگر زندہ رہ سکتا ہوں تو بچہ کی طرف سے، اس لئے اُسے اپنے بچہ سے محبت ہوتی ہے۔(5) ماں باپ کی محبت کی پانچویں وجہ مظہریت ہوتی ہے۔بقائے ذات کی خواہش تو یہ تھی کہ انسان چاہتا ہے میں خود زندہ رہوں اور مظہریت کے معنی یہ ہیں کہ انسان چاہتا ہے کہ جو چیزیں اُس سے ظاہر ہوتی ہیں وہ بھی ہمیشہ قائم رہیں۔ایک جوانی میں خوب چل پھر سکتا ہے ، گھوڑے پر سواری کرتا ہے اور میلوں میل تک سفر