انوارالعلوم (جلد 23) — Page 129
انوار العلوم جلد 23 129 تعلق باللہ کہ انسان روحانیت میں ترقی کرتے کرتے ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اُس کا خدا تعالیٰ سے براہِ راست تعلق ہو جاتا ہے۔بدھ مذہب کی کتابوں میں تو یہاں تک لکھا ہے کہ حضرت بدھ ایک جگہ بیٹھے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہوگئے اور یہ عبادت اُنہوں نے اتنے انہماک سے کی کہ ایک بانس کا درخت اُن کے نیچے سے اُگا اور انہیں چیر کر اُن کے سر سے نکل گیا مگر اُن کو خبر تک نہ ہوئی اور پھر انہیں خدا مل گیا۔اس قصہ کا مطلب بھی یہی ہے کہ وہ دنیا سے اتنے بیزار اور متنفر ہوئے کہ آخر انہیں خدا کا وصال حاصل ہو گیا۔پس اللہ تعالیٰ کی ملاقات ہو سکنے کا جہاں تک امکان ہے دنیا میں کوئی بھی ایسا مذہب نہیں جو یہ کہتا ہو کہ خدا نہیں مل سکتا۔جو لوگ خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں اور اپنی عملی زندگی میں خدا تعالیٰ کی کتاب کو اپنار اہنما سمجھتے ہیں اور اُس کے مطابق چلنے کی کوشش کرتے ہیں وہ تو یہی یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ مل سکتا ہے۔لیکن وہ لوگ جو اپنی عملی زندگی اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق نہیں رکھتے وہ بے شک منکر ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا نہیں مل سکتا۔مسلمانوں میں سے جو متکلمین یا فلسفی لوگ ہیں یعنی وہ لوگ جو خالص ظاہری علوم کے دلدادہ ہوتے ہیں یا جنہیں ہم زیادہ سے زیادہ کتابی کہہ سکتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات نہیں ہو سکتی۔اُس سے تعلق پیدا کرنے کا صرف اتنا ہی مفہوم ہے کہ انسان کو اس امر کا یقین ہو جائے کہ وہ اُس کے حکم کے مطابق نماز ، روزہ اور ذکر الہی وغیرہ میں مشغول ہے۔گویا عبادت و امتثال ہی اُس سے تعلق ہے اور اُس کا احسان وانعام ہی اُس تعلق کے اظہار کا ایک ثبوت ہے۔ان متکلمین کو چھوڑ کر مسلمان، عیسائی، یہودی، زرتشتی اور اسی طرح ہندو اور بدھ مذہب کے پیر وسب یہی کہتے ہیں کہ خدا مل سکتا ہے اور یہی نہیں کہ وہ مل سکتا ہے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ اُن کے نبیوں اور دوسرے صلحاء وغیرہ کو ملا ہے اور اُس نے اُن کی تائید میں اپنے نشانات ظاہر کئے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف وہ انہیں ملا ہے بلکہ ہمارا بھی یہی دعویٰ ہے کہ وہ ہم کو بھی ملا ہے اور اُس نے ایسے ایسے رنگ میں ہم سے اپنے تعلقات کا اظہار کیا ہے کہ یہ ملنا اُس سے کم ملنا نہیں جس طرح کوئی اپنے ماں باپ یا کسی اور عزیز سے ملتا ہے۔پس متکلمین کا یہ کہنا