انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 590 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 590

انوار العلوم جلد 23 590 صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے دفاتر کے افتتاح۔۔۔۔اکٹھے رہتے ہیں، دھوبی اکٹھے رہتے ہیں، موچی اکٹھے رہتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے کام کے سلسلہ میں ایک دوسرے کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر یہ لوگ اکٹھے نہ رہیں تو بہت سی مشکلات کا سامنا ہو۔مثلاً اگر ایک نائی بیمار ہو جائے اور اس کا قائمقام وہاں موجود نہ ہو تو لوگوں کو کتنی دقت کا سامنا ہو۔ایک دھوبی کا مسالہ ختم ہو جائے تو وہ اپنے ساتھیوں سے مانگتا ہے۔اگر اس کے قریب دوسرے دھوبی نہ ہوں تو اس کے کام میں روک پیدا ہو جائے۔نیچہ بندی کے سلسلہ میں بھی بعض چیزیں ختم ہو جاتی ہیں تو نیچہ بند اپنے ہمسایوں اور اپنے قریب رہنے والوں سے مانگ لیتے ہیں۔اگر ایک نیچہ بند ایک شہر میں رہتا ہو اور دوسرا دوسرے شہر میں تو وقتی ضرورت کے وقت کیا وہ دوسرے شہروں میں جاکر وہاں کے نیچہ بندوں سے وہ چیزیں مانگے گا؟ غرض ایک ہی کام کرنے والوں یا ایک ہی قسم کے پیشہ وروں کا اکٹھار ہنا ضروری ہے اور یہ معاشرتی اور اقتصادی حالت کا نتیجہ ہے، حب الوطنی کی کمی کا نتیجہ نہیں۔کراچی اور لاہور کے شہروں میں دیکھ لو کیا ایک ہی پیشہ والے لوگ اکٹھے نہیں رہتے ؟ ہم تو اب بھی اس بات کے قائل ہیں کہ جو لوگ مشرقی پنجاب سے آئے ہیں ان میں سے جن کے آپس میں تعلقات تھے انہیں یہاں آکر الگ الگ قصبات بسانے چاہئے تھے۔میں نے تو 1947ء میں یہاں تک کہا تھا کہ اُردو دانوں کی بھی الگ بستی ہونی چاہئے تاکہ ان کی زبان خراب نہ ہو۔اب اگر میری تجویز کے مطابق اُردو دان الگ شہر آباد کر لیں تو کیا یہ لوگ کہیں گے کہ ان کا ایسا کر ناحُب الوطنی کی کمی کی وجہ سے ہے ؟ حالا نکہ اُنہوں نے الگ شہر اس لئے آباد کیا ہو گا تاکہ زبان کی سی قیمتی چیز ضائع نہ ہو۔حقیقت یہ ہے کہ موجودہ صورت میں اُردو زبان زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتی۔اُردو دان پنجابیوں میں بس رہے ہیں اور ان کی اولادیں پنجابی زبان سیکھ رہی ہیں۔ہمارے اپنے رشتہ داروں کی یہی حالت ہے۔وہ دہلی میں رہتے تھے تو اُن کی زبان ٹکسالی زبان سمجھی جاتی تھی۔ان میں کثرت سے ادیب پائے جاتے تھے۔وہ ماہرین زبان تھے مگر اب وہ ادھر آگئے ہیں اور ان میں سے دس میں گھرانے لاہور میں بس گئے ہیں۔بعض جیل روڈ پر آباد ہیں، بعض