انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 591 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 591

انوار العلوم جلد 23 591 صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے دفاتر کے افتتاح۔۔۔شیر انوالہ گیٹ میں ہیں اور بعض میو روڈ پر ہیں یعنی وہ دس میں گھرانے بھی لاہور کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں۔پنجابی ماحول کی وجہ سے ان کی اولادیں پنجابی زبان سیکھ رہی ہیں۔اگر کسی بچے کے پیٹ میں درد ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے " اماں میرے ڈڈھ وچ پیڑ ہوندی اے" اور مائیں انہیں پنجابی زبان بولتے دیکھ کر خوش ہوتی ہیں اور ہنس کر کہتی ہیں دیکھیں ! یہ بچہ کس طرح آسانی کے ساتھ پنجابی بولتا ہے۔گویا خواجہ میر درد کا نواسہ مرزا غالب اور مومن خان کا بھانجا " میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے " کی بجائے "میرے ڈڈھ وچ پیر ہوندی اے" کہتا ہے اور ماں ہنس کر کہتی ہے دیکھیں! ہمیں تو پنجابی بولنی نہیں آتی مگر یہ بچہ خوب پنجابی بول سکتا ہے۔پس میں نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ گورنمنٹ تھل کا علاقہ آباد کرنا چاہتی ہے اسے چاہئے کہ وہ مظفر گڑھ کے علاقہ میں چالیس میل کا علاقہ صرف اُردو دانوں کے لئے وقف کر دے تاکہ جو لوگ قربانی کر کے وہاں آباد ہو سکیں، آباد ہو جائیں اور اس طرح اُردو زبان محفوظ ہو جائے لیکن شاید وہ اُردو دان مجھ سے زیادہ عقلمند تھے کہ وہ اکٹھے ایک جگہ آباد نہ ہوئے تا کل کوئی معترض یہ نہ کہہ سکے کہ ان کا ایک علاقہ میں آباد ہونا حُب الوطنی کے خلاف ہے۔حالانکہ ایک خاص قسم کی تنظیم اور خاص مقصد کو سامنے رکھنے والے لوگ بالعموم ایک ہی جگہ پر اکٹھے رہتے ہیں اور ان کا ایسا کرنا معاشرتی اور اقتصادی حالت کے نتیجہ میں ہوتا ہے۔کوئی جماعت اخلاق کی تعلیم دیتی ہے ، کوئی جماعت تصوف کی طرف مائل ہوتی ہے، کوئی جماعت احادیث کو رواج دینا چاہتی ہے اور اسے اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لئے اکٹھا رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔مثلاً اہل حدیث کی ایک شاخ نے دیو بند آباد کیا تھا۔اسی طرح بعض جگہیں دوسرے اہل حدیث نے بنائی ہیں مثلاً حضرت شیخ احمد صاحب سرہندی کے مریدوں نے بعض جگہیں بنائی ہیں کیونکہ ان کا اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لئے اکٹھے رہنا ضروری تھا۔اگر وہ لوگ الگ الگ جگہوں پر پھیلے ہوئے ہوں تو وہ سکول اور کالج کس طرح چلا سکتے ہیں۔اگر وہ لاہور ، گوجرانوالہ ، گجرات اور لائل پور میں پھیلے ہوئے ہوں اور اُن کا کالج لاہور میں ہو تو کیا