انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 589 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 589

انوار العلوم جلد 23 589 صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے دفاتر کے افتاح۔۔بلکہ صحابہ نے تو نبوت کے پانچویں سال ہی حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی جس کے معنے تھے کہ وہ 16 سال تک وطن سے الگ رہے پھر کہیں جا کر مکہ فتح ہوا۔مگر جب مکہ فتح ہوا تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی مدینہ کو ہی اپنا مر کز بنائے رکھا۔گویا ان کے لئے ہمیشہ کی ہجرت ہو گئی۔تو میں نے ان لوگوں کو سمجھایا کہ یہ تین چار ماہ کی بات نہیں اور اگر یہ تین چار ماہ کی بات بھی ہو تب بھی جب تم تھوڑی دیر کے لئے بھی اپنے لئے آرام چاہتے ہو تو خدا تعالیٰ کے دین اور اشاعت کے لئے سالوں انتظار کیوں کیا جائے۔بہر حال ایک طبقہ کی مخالفت کے باوجود جماعت نے یہی فیصلہ کیا کہ میری رائے ہی ٹھیک ہے اور ہمیں مرکز بنانا چاہئے۔چنانچہ یہ جگہ جو میری بعض پرانی خوابوں سے مطابقت رکھتی تھی مرکز کے لئے تجویز کی گئی۔جو لوگ یہاں بیٹھے ہیں ان میں تھوڑے ہی ہیں جنہوں نے اس جگہ کو ابتدائی حالات میں دیکھا۔اکثر نے اسے ابتدائی حالت میں نہیں دیکھا۔ابتدائی حالت میں یہاں بسنے والے غالباً 35 آدمی تھے۔ان کے لئے سڑک کے کنارے خیمے لگائے گئے تھے۔جہاں اب بھی بعض کمرے بنے ہوئے ہیں۔ان میں ابتداء لنگر بنا تھا۔اب وہ سٹور کا کام دیتے ہیں۔ایک سال کے قریب وہاں گزارا۔پھر لاکھوں روپیہ خرچ کر کے ہم نے عارضی مکان بنائے تا ان میں وہ لوگ بسیں جنہوں نے ر آباد کرنا ہے۔پھر لاکھوں روپیہ خرچ کر کے یہ بلڈ نگس بنیں جو اب تمہیں نظر آتی ہیں۔اس عظیم الشان صدمہ کے بعد جماعت نے اتنی جلدی یہ جگہ اس لئے بنائی تاکہ وہ مل کر رہ سکیں۔اکٹھے رہ کر مشورے کر سکیں۔سکول اور کالج بنائیں تاکہ اُن کی اولاد تعلیم حاصل کرے۔اس کے مقابلہ میں وہ لوگ جن کو اتنا صدمہ نہیں پہنچا ان میں سے کوئی جماعت بھی اپنا مرکز نہیں بنا سکی۔بعض معترض کہتے ہیں کہ ہمارا یہاں ایک علیحدہ جگہ بس جانا ملک سے بیوفائی کی علامت ہے۔یہ نہایت ہی احمقانہ خیال ہے کیونکہ ایک قسم کے کام کرنے والوں کے لئے اکٹھا رہنا ضروری ہوتا ہے چاہے وہ حب الوطنی میں سب سے زیادہ بڑھے ہوئے کیوں نہ ہوں۔دوسرے شہروں میں جاؤ وہاں تم دیکھو گے کہ تمام نیچھ بند 1 اکٹھے رہتے ہیں، نائی