انوارالعلوم (جلد 23) — Page 566
انوار العلوم جلد 23 566 اپنی روایات زندہ رکھو اور مستقل مائو تجویز کرو دوسرے لوگوں کی نقل کرتے ہوئے جاری کی ہیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بد قسمتی سے مسلمانوں پر ایک ایسا زمانہ گزرا ہے (اور وہ زمانہ چھوٹا نہیں بلکہ صدیوں کا ہے) کہ انہوں نے اپنے ماضی کے واقعات کو یاد نہ رکھا۔اُنہوں نے یہ یادنہ رکھا کہ وہ کن باپ دادا کی اولاد ہیں اور پھر ان باپ دادوں کے کیا اطوار تھے۔وہ بالکل وحشیوں اور جانوروں کی طرح ہو گئے جو اپنے آپ کو کسی ماضی کے ساتھ وابستہ رکھنے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔چنانچہ دیکھ لو جانوروں کا کوئی ماضی نہیں ہو تا انہیں پتہ نہیں ہوتا کہ اُن کا باپ کون تھا، اُن کا دادا کون تھا، اُن کا پڑدادا کون تھا لیکن انسان اپنے باپ دادوں کا نام یاد رکھتا ہے۔مگر مسلمانوں پر ایک ایسا زمانہ آیا جب وہ اپنے ماضی کو بھول چکے تھے اور وہ اُن جانوروں کی طرح ہو گئے تھے جو اپنے آپ کو کسی ماضی کے ساتھ وابستہ رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے اور یا پھر وہ غیر لوگوں کے نقال ہو گئے اور اُنہوں نے اپنے ماضی کی تاریخ کو حقیر سمجھ کر چھوڑ دیا۔انہیں جو کچھ حصہ ماضی کی تاریخ کا ملتا تھا انہوں نے اُسے بھی نظر انداز کر دیا اور سمجھ لیا کہ ہمیں اپنی سابقہ روایات پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ اُن میں انتشار پیدا ہو گیا۔جیسے دریا میں بہت سی کشتیوں کو آپس میں رشوں کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے تو اُن پر بچے بھی چلتے ہیں، جو ان بھی چلتے ہیں، مرد بھی چلتے ہیں اور عور تیں بھی چلتی ہیں، گائے، بیل، اونٹ، گھوڑے اور بکریاں بھی چلتی ہیں لیکن جب کسی جگہ کشتیوں کے رستے ٹوٹ جاتے ہیں اُن کے بندھن کھل جاتے ہیں تو پھر کوئی کشتی کسی طرف چلی جاتی ہے اور کوئی کسی طرف۔ایسی کشتیوں سے کوئی ملک یا کوئی قوم فائدہ نہیں اُٹھا سکتی کیونکہ بندھن ٹوٹ جانے کے بعد کشتیوں میں فاصلہ ہو جاتا ہے اور ہر ایک کی جہت بدل جاتی ہے۔یہی حال قوموں کا ہے جو قومیں اپنی روایات کو قائم رکھتی ہیں اور اپنے ماضی کو بھلا نہیں دیتیں اُن کی مثال اُن کشتیوں کی سی ہوتی ہے جنہیں درمیان سے باندھ دیا جاتا ہے اور وہ دریا پر ایک پل بنا دیتی ہیں اس طرح لوگ اُن سے بہت کچھ فائدہ اُٹھا لیتے ہیں۔اور جو قومیں اپنے ماضی کو بھول جاتی ہیں اور اپنی سابقہ روایات کو ترک کر دیتی ہیں اُن کی مثال ان کشتیوں کی سی ہوتی ہے